تحریر ۔ دانیال رضا

اس انسانی کرہ ارض پر بسنے والی آبادی کی اکثریت آج بھی موت کے خوف سے نجات حاصل نہیں کر سکی اور اس خوف کی لاچار گی کا شکا رہے حالانکہ آج کا دور انسان کی ترقی کا جدید ترین اور روشن خیال دور کہلاتا ہے لیکن آج بھی موت کے خوف کا وجود مزید ترقی کے آڑےآ رہا ہےاور اس کےارتقا پر کڑے سوالات اٹھاتا ہے کہ ماضی کی جہالت اور اندھیرے آج بھی کیوں گہرے ہیں ۔ کیوں موت کے خوف پر آج بھی کاروبار ہو تا ہے ۔ کیوں آج بھی موت انسان کی کمزوری اوربے بسی ہے ۔ کیوں آج بھی موت کے خوف پر چلنے والے عا لمی مذہبی دھندے قائم ہیں جو موت کی بلیک میلنگ کرتے ہیں ۔ کیوں موت کو منڈی کی جنس بنا کر خریدا اور بیچا جاتا ہے اور اس کے کاروبار کے لیے زندہ عام انسانوں کے ذہنوں پر موت کا خوف مسلط کیا جاتا ہے ۔ جنت اور دوخ بھی اسی موت کی پیداوار اور بیوپار ہیں۔ موت کا خوف بدوں ، وحشیوں اور جانور نما انسانوں کے لیے تو سمجھ میں آتا ہے جو وحشت اور بربریت کی پیداوار تھے جو زندگی کا احساس تو رکھتے تھے لیکن اپنی کم علمی اور اجتماعی کمزوری کی وجہ سے اسے سمجھنے سے قاصرتھے یہ اپنے سرداروں ، حکمرانوں اور طاقت وروں کو اپنا خدا ، بھگوان یا دیوتا بنا لیتے تھے اور انکی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی مغفرت سمجھتے تھے یعنی طاقت کا مرکز ہمیشہ سے خدا رہا ہے۔ جب جب اس طاقت کا مرکز بدلتا گیا خدا بھی بدلتے گئے ۔ لیکن علم کے اجالوں نے ذہنوں کے اندھیروں کو جھٹک دیا۔ خدا اپنی لامحدویت سے محدود ہو گئے اور مادی سے غیر مادی ہوتے چلے گئے کیونکہ سائنس اور ٹیکنولوجی نے خدا کے مادی تصور کے لیے کوئی جواز نہ چھوڑا تھا ۔ لیکن آج بھی ماضی کی طرح ان خداوں سے مادی خواہشات اور ضرورتیں ہی وابستہ ہیں یہاں تک کہ ان کی وضاحت بھی مادیت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس سے یہ ثابت ہوتا کہ آج ذہنی نہیں بلکہ مادی ضروریات زندگی کی محرومی نے ہی خداوں کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ انسانی زندگی جب سماجی محرومی ومحکومی کا شکار ہوتی ہے تو وہ اس کی نجات کے لیے دوسری مسائل سے پاک ہمیشہ کی زندگی کے تصور میں آج کی تمام تکلیف اور مصائب برداشت کرنے کا درس دیا جاتا ہے یہ تبلیغ یقیناً حکمرانوں کے حق میں ہے جو اس دنیا میں بھر پور زندگی گزارتے ہیں ۔اس لیے موت کا خوف کم علمی، کم ہمتی اورمحرومی کی علامت ہے یہ جون جوں بڑھے گی تو ں تو ں موت کے اندھیرے سایوں کا خوف بھی بڑھے گا اور طبقاتی اور درجاتی معاشرے میں اس سے نجات ممکن نہیں ہے ۔ 

تہذیب یافتہ انسانوں اور نام نہاد سول لائز معاشروں میں بھی یہ رجعتی یلغا آج بڑی تیزی سے پھیلائی جا رہی ہے اور نظام کا بحران اس کو سماجی بنیادیں فراہم کر رہا ہے ۔ جومادی اور شعوری ترقی کی نفی کرتے ہیں یہی بے شمارسماجی تضادات آج  اپنا برملا اظہار کرتے ہوئے موجودہ جدیدیت میں چھپی پسماندگی کو بڑی بے رحمی سے الف ننگا کردیتے ہیں ۔ کیونکہ تہذیب تو رضاکارانہ معاشرتی ہم آہنگی، مادی شعوری اور معاشرتی ترقی کا نام ہے ۔ لیکن جنگ و جدل ، علاقائی اور مذہبی نفرتیں ، ڈنڈے اور سرمایے کی حکمرانی، امارت اور غربت کی وسیع خلیج اور طبقاتی تضاد کے حالات کسی بھی سول لائزیشن کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اس کی نفی ضرور کرتے ہیں ۔ 

آج کا سوال یہ ہے کہ موت ہے کیا اور اس کا خوف کیوں ہے ۔ موتیں دو قسم کی ہوتی ہیں  انسان کی ایک طبعی موت ہے اور دوسری شعوری موت جن کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے لیکن موت سے مراد عام طور پر طبعی موت ہی لیا جاتا ہے ۔ آج  طبعی موت کا خوف کس طرح انسانی سوچ کو مجروج کرکے شعور اور سماج کے زوال کا سبب بنتا ہے ۔ جب تک موت کو نہ سمجھا جائے اس کے خوف سے آزادی ممکن نہیں ہے اور اس کا بڑھتا خوف جدید انسان کو بھی ماضی کے مزاروں میں دفن کرتا رہے گا اور انسان کھبی بھی اپنے ہولناک ماضی سے مکمل آزاد نہیں ہوسکے گا ۔  انسان موت کے خوف سے آزادی حاصل کیے بغیر کھبی باشعور نہیں ہو سکتا اور ایک حقیقی انسانی سماج کی تعمیر و ترقی نہیں کر سکتا ۔ 

زندگی اور موت کے درمیان چند ساعتوں کا فاصلہ ہے ۔ان لمہوں کا سفر کسی شخص کا طویل اور کسی کا مختصر ہو سکتاہے ۔ لیکن اربوں سال پر محیط زمینی تاریخ میں یقیناً کسی انسان کی سو سالہ زندگی بھی چند سکینڈوں سے زیادہ کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں رکھتی۔ زندگی اور موت کا فیصلہ زیادہ یا کم سانسیں یا سال نہیں کرتے بلکہ ان کے دوران یا درمیان زندہ معیار اور قدر کرتے ہیں ۔ یعنی کسی شخص نے اپنی زندگی کو کتنا بلند انسانی معیار اور سماجی قدر بخشی جو اس کی حقیقی موت اور زندگی کا فیصلہ کرتی ہے ۔ قدر ی معیاری زندگی کو کھبی موت نہیں آتی اور شعوری زندگی ہر انسان کو طبعی موت سے بہت بلند کر دیتی ہے جبکہ بہت سے لوگ زندگی میں مردوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں جو اس دھرتی پر چلتی پھرتی زندہ لاشیں اور بوجھ ہیں جنکا نہ ہونا ہونے سے بہت بہتر ہے کیونکہ کہ یہ لوگ شعوری یا لاشعوری طور پرسماجی قدری زندگی کے دشمن ہیں اس لیے کہ اس زمین پر کوئی بھی انسان(ذہن)کسی فلسفے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس کا لازما زندگی کے متعلق ایک نظریہ ہوتا ہے اگر جدید اور ترقی یافتہ نہیں ہے تو پھر رجعتی اور قدامت پرستانہ ہی ہو گا اور غیر جدلیاتی نظریہ زندگی یقیناًانسان اور سماج دشمن ہیں ۔ 

آج تک کی انسانی تاریخ میں بہت سے لوگوں کی اپنی زندگی تو بہت مختصر تھی لیکن انہوں نے اپنی اس قلیل سی حیات کو سماجی علوم اور عوامی جدوجہد سے وہ قدر دی کہ یہ امر ہو گئے ۔ سینکڑ وں اور ہزاروں سال بعد بھی یہ آج زندہ وحیات ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گئے کیونکہ انہوں نے اپنے ادوار میں زوال پذیر معاشروں کے خلاف بے خوف علمی اور عملی جنگ کی اورمروجہ ریت ورواج اور قوانین کے خلاف بڑی جرات سے بغاوت کا علم بلند کیا اور ہمیشہ کے لیے زندہ تاریخ کا حصہ بن گئے ۔ تب یہ باغی اور قانون شکن تھے لیکن آج یہ تاریخ ساز ہیں ۔ ان میں سقراط ، ہیگل ، ڈارون ، کارل مارکس ، لینن ، نیوٹن ،آئن سٹائن، گرام بیل ، آلگزینڈر فلیمنگ وغیرہ اور حضرت محمد کے علاوہ وہ تما م پیغمبر ، گرو، دیوتا اور دیویاں بھی شامل ہیں جنہوں نے انسانی تاریخ میں ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز بلند کی جس وجہ سے یہ آج بھی زندہ ہیں یعنی زندگی کا پیمانہ  صرف سماجی قدر یا معیار ہے اور کچھ نہیں جبکہ مذہبی بیمار پیغبروں پر اپنا الگ ہی غیر منطقی اور غیر حقیقی روحانی لیبل لگا دیتے ہیں ۔ 

انسان کا اس کائنات پر جنم مادی اور سماجی حالات کی پیداوار ہے ۔ اس جنم پر اس کا کوئی اختیارتو نہیں لیکن یہ قدرت سے لڑ کر اپنی شعوری ترقی سے اپنی طبعی موت پر قابو حاصل کر تا جا رہا ہے کیونکہ جس انسان کی زندگی چالیس برس پر ختم ہو جاتی تھی جیسے آج بھی افریقہ کے بہت سے ممالک میں انسانی زندگی چالیس سال سے زیادہ نہیں ہے اور پاکستان کی اوسط عمر بھی چالیس کے قریب ہی ہے وہیں پر یورپ میں لوگوں کی زندگی اوسط ستر سال سے زیادہ ہے جو کہ قدرت کو زیر کرنے سے حاصل ہوئی اورطبعی موت کے آسیب کو شکست دی گئی یہ میڈیکل سائنس کی ترقی بھی موت کے خوف سے نجات حاصل کر کے ہی کی گئی ہے وگرنہ قناعت اور اطاعت کا درس تو شکر اور صبر پر ہی ختم ہو جاتا ہے لیکن ترقی وتعمیر ،تحقیق اور تنقید کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

قدری معیاری زندگی پر ٹراٹسکی لکھتا ہے کہ زندگی گزارنا آسان نہیں ہے جب تک انسان کے پاس کوئی ایسا عظیم مقصد نہ ہو جو ذاتی تکالیف، اذیتوں ،بے وفائی ، غداری اور نیچ پن سے بلند کر دے ورگرنہ انسان کہیں نہ کہیں ، کھبی نہ کھبی گر جاتا ہے جھک جاتا ہے بک جاتا ہے اور جب کو ئی اس عظیم مقصد کو اپنا لے تو پھر نا صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے بلکہ موت کاخوف بھی ٹل جاتا ہے ۔ اگر آپ عظیم لوگوں کی حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ خواہشیں جن کے لیے عام لوگ کٹ مرتے ہیں اور انسانی صفات سے بھی گر جاتے ہیں ان سوشل فایٹرز کے لیے یہ کتنی غیر اہم اور نامعقول ہو تی ہیں کیونکہ جب مقصد عظیم ہو اور عزم اٹل تو پھر انسان حقیقی طور پر جانورروں کی صف سے باہر آتا ہے کیونکہ روٹی روزی کمانا بچے کرنا اور پالنا یہ تو حیوانوں کی صفت ہے یہاں تک انسان جانوروں سے کسی طور پر بھی بلند نہیں ہوتا(بے شک موجودہ نظام کے بحرانوں نے انسان کو جانوروں کے اس معیار سے بھی گرا دیا ہے اور ان تنگ دست حالات نے طبعی موت کے خوف کو بڑھا دیا ہے)بلکہ صرف اور صرف سماجی ارتقا کی جدوجہد میں اس کا کردار اس کو حیوانوں سے بلند اور ممتاز کرتاہے( جو ماضی سے آج کہیں زیادہ ضروری اور لازمی ہے)۔ جانور نیچر کے مطابق زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ انسان نیچر کو بدل کر زندگی گزارتا  ہے ۔ جب انسان اسی زمین پر اپنی زندگی کو سمجھتا ہے تو پھروہ کسی اور جنت کو تلاش نہیں کرتا بلکہ اسی دنیا کو جنت بناتا ہے یا اس کی کوشیش کرتا ہے ۔ جس کے لیے ٹراٹسکی نے ایک اور جگہ لکھا ہے ۔ میں بھول چکا ہوں کے میں آخیری بار کب رویا تھا اس لیے نہیں کہ میری زندگی میں دکھ اور مصائب نہیں ہیں بلکہ اس لیے کہ میں نے جان لیا ہے کہ جنگیں مسلسل جدوجہد سے ہی جیتی جا سکتی ہیں ۔ آنسوں اور آہوں سے نہیں ۔ اور ہمارے عہد کی زندگی کسی طور پر بھی کسی جنگ سے کم نہیں ۔ آج پاکستان اور عالمی دنیا میں رجعت پرستی اور قدامت پرستی کی لہر سے یہ واضح ہو تا ہے کہ عام عوام نے سیاست اور سماج میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے جس سے جہاہل ، بنیاد پرست ، مفاد پرست ،گھٹیا، لیٹرے اور پسماندہ افراد حکمرانی میں آگئے ہیں جنہوں نے عوام کے اس مایوس معاشرتی رویے سے فائد ہ اٹھا کر سماجی اور عوامی سرمایے اور دولت کے اپنے پاس انبار لگا لیے ہیں جس سے طبقاتی تفریق وسیع سے وسیع تر ہو تی جا رہی ہے اور عالمی معاشرہ زوال کی گہرائیوں میں دھنستا جا رہا ہے۔ اس کا انت یقیناً پھر اسی وقت ہو گا جب عام عوام اپنے آپ کو موجودہ حالات سے بلند کر کے اپنے آپ کو انسانی صفات سے ہم کنار کر یں گئے سیاست ،معیشت اور سماج میں اپنا عظم انقلابی کردار ادا کرتے ہوئے حقیقی سماجی تبدیلی برپا کریں گئے تب عوام اپنی موت کے خوف کو شکست فاش دیں گئے کیونکہ موت کا خوف ہی انسان کو کمزور ، لاچار ، اپائج اور اطاعت گزار بنا دیتا ہے جو تبدیلی اور ترقی کے راستے میں بڑی روکاوٹ ہے اور جس دن ہم نے موت کے خوف پر فتح حاصل کر لی یہ دنیا کسی بھی خیالی جنت سے کم نہیں ہوگئی ۔ تب آج کے ناخدا ، بھگوان اور دیوتا منہ کے بل کہیں اوندے گرے ہوں گئے  جنہوں نے ہمیں کمزور اور مظلوم بنایا ہےاور یہ تاریخ میں کوئی پہلی بار نہیں ہو گا ۔

 

 

انسان کی موت کے خلاف قدرت سے جنگ

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کتابیں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh