Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے

     لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
معظم کاظمی
چنگاری ڈاٹ کام،01.05.2010۔ ۔ ۔ ۔ لاہور ایک بار پھر لرز اٹھا جب احمدیوں کی عبادت گاہیں جو گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاون لاہور میں واقع ہیں پر منظم دہشت گردی کے ان واقعات نے نہ صرف شہر لاہور کو بلکہ پورے پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے جو قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت سے زیادہ قابل مذاحمت بھی ہے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس درندگی میں پچانویں ہلاکتیں اورایک سو پچاس افراد شید ید زخمی ہوئے ہیں یہ تو سرکاری اعداوشمار ہیں جبکہ حقیقی اعدادو شمار ہمیشہ کچھ مختلف ہی ہوتے ہیں ۔ پورے پاکستان میں اس مسلسل بڑھتی دہشت کی وحشت نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا عرصہ دراز سے ہونے والی یہ ہولناک بے گناہ عوام کی دن دہاڑے سرعام قتل گری کا بازار کب تلک گرم رہے گا؟ اور کیا اس کا کوئی انت ہے؟ اور اگر ہے تو کیا ہے ؟ ۔ موجودہ نظام میں، اسکے حکمرانوں ، روائتی پارٹیوں اور انکی قیادتوں سے تو تقریبا ہر کوئی مکمل مایوس اور نا امید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ پاکستان میں عبادت گاہوں پر یہ پہلے حملے نہیں ہیں اور نہ ہی آخیری ہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی اہل سنت اور اہل تشع کی عبادت گاہوں میں کئی بار دہشت گردی کی کاروائیاں ہوچکی ہیں ۔ اس سے قبل اہل تشع کی امام بارگاہوں ، محرم کے جلوسوں اور جنازوں پر خود کش بمبار حملے ہوتے رہے ہیں ۔ اسی طرح اہل سنت کی کئی عبادت گاہوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سندھ کے کئی شہروں میں ہندووں کے مندر اور عیسائیوں کے چرچ بھی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ اور نہ ہی اب سکھوں کے گوردوارے محفوظ ہیں ۔ ان دہشت گردیوں کامقصد ملک میں خوف وہراس اور فرقہ راریت کی خونی جنونیت کو بھڑکنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روز با روز بڑھتے انسانیت سوز واقعات جو پاکستانی سماج کی تباہی و بربادی بن چکے ہیں کی اصل حقیقت کو ہم اس دن جان جائے گئے جب ہم اس اہم سوال ،، کہ یہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کس کے حق میں ہے اور کس کے خلاف ہے ؟ کا جواب تلاش کر لیں گئے ۔ طبقاتی سماج کا ایک سینکڑوں سال پرانا قانون ہے کہ تقسیم کرو اور حکمرانی کرو ۔ اسی قانون کے تحت برطانوی سامراج نے پوری دنیا پر اپنی لوٹ کھسوٹ کی حکمرانی کی اور آج بھی یہ قانون نہ صرف اسی طرح قائم ہے بلکہ جب جب معاشرے میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے طبقاتی خلیج بڑھتی ہے تو اس کے خلاف عوامی مذاحمت ابھرتی ہے تو یہ قانون اسی شدت سے سماج پر حکمرانوں کی جانب سے لاگو کیا جاتا ہے ۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کے تین سے پانچ فیصد لوگ، خاندان یا اجادریاں دنیا کی پچاسی سے ستاسی فیصد عوام پر کس طرح حکمرانی کرتے ہیں ؟۔ یقیناًاسی پالیسی کے تحت کہ محنت کش عوام کو تقسیم در تقسیم کیا جائے تاکہ انکے اتحاد کی طاقت کو کمزور سے کمزور کر کے انکی مذاحمت کو اپائج اور لاغر بنایا جائے تاکہ ان دولت مندوں کا استحصال جاری رہ سکے یعنی ظلم تب تک قائم رہ سکتا ہے جب تک ہم عوام مذہبی ، علاقائی، نسلی ، لسانی ، قومی ، فرقہ وارانہ تعصبات میں بٹے رہیں گئے اور جو کوئی بھی طبقاتی تقسیم کی بات کرتا ہے یا پھر ان بنیادوں پر عوام میں تقسیم ڈال کر کوئی الگ جماعت ، پارٹی یا تنظیم بناتا ہے وہ نہ صرف ظلموں کے ساتھ ہے بلکہ ظلم کا رکھوا بھی ہے کیونکہ ظلموں کو سب سے بڑا خوف محنت کش عوام کے طبقاتی اتحاد سے ہے جو وہ تباہ کرنے کے درپے رہتے ہیں آج کی اذیتی غربت ، سماجی انتشار ، بم دھماکے ، جنگیں ، بے روزگاری ، مہنگائی، بنیاد پرستی کی جنونیت ، جرائم، بد اعنوانی ، جمہوری اور آمرانہ لوٹ کھسوٹ طبقاتی سماج اور سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہے ۔ غربت میں امن قائم کرنے کا فلسفہ کسی دیوانے کے خواب سے زیادہ حثیت نہیں رکھتا اسی طرح سیاست ہمیشہ معیشت کی اعکاس ہو تی ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ سافٹ وئیر کے مالک بل گیسٹس کی منٹوں کی نہیں بلکہ سیکنڈوں کی آمدن کئی ملین ڈالڑ زمیں ہے ۔ پاکستانی صدر مملکت آصف زرداری پاکستان کا امیر ترین شخص ہے جبکہ نواز شریف کا خاندان پاکستان کا تیسرا امیر ترین خاندان ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ دوسری طرف سرکاری ہی اعدادو شمار کے حوالے سے پاکستان کی آڑتالیس فیصد آبادی غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ یہ پھر سرکاری شماریات ہیں جبکہ حقیقی اعدادو شمار کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد آبادی ایک سو ساٹھ روپے روزانہ سے کم آمدن پر جانور سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے۔ انہی حالات کی وجہ سے پاکستان میں آج مائیں بھوک کی دوزخ بجھانے کے لیے اپنے بچے فروخت کر رہی ہیں شوہر اپنی بیویوں کو بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ جسم فروشی سے ضمیر فروشی تک کا بازار ہر طرف گرم ہے ۔ دبئی کے چکلوں میں پاکستانی مجبور عورتیں اکثریت میں پائی جاتی ہیں ۔ عربوں کے پسندیدہ کھیل اونٹوں کی ریس میں بھی کافی پاکستانی معصوم بچے استعمال ہوتے ہیں ۔ اس اونٹوں کی ریس میں ان شیرخوار بچوں کو اونٹوں کے نیچے پیٹ پر باندھا جاتا ہے اور ان بچوں کے رونے سے اونٹ ڈر جاتے ہیں اور تیز بھگتے ہیں اونٹوں کے تیز بھا گنے سے بچے درد اور تکلیف سے جب زیادہ بلک بلک کر روتے ہیں تو اس طرح اونٹ پہلے سے زیادہ تیز بھاگتے ہیں اس ریس کے آخیر تک کھبی کوئی ایک بچہ معزانہ طور پر بھی زندہ نہیں بچا۔ یہ اونٹوں کی ریس امارات اور غربت کی دو انتہاوں کی بھیانک ترین شکل ہے ۔ پاکستان کا شمار ان پانچ بڑے ممالک میں ہے جو عالمی منڈی میں غربت کی وجہ سے گردے اور جسمانی اعضا بیچتے ہیں۔ پاکستان میں ایک کڑوڑ کے قریب چائلڈ لیبر موجودہ ہے ۔ پاکستان کی اسی فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے جبکہ پھر یہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی زرعی اجناس کا ہی بحران رہتا ہے۔ دوھ پیدا کرنے والا پاکستان دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن پھر بھی ہر غریب آدمی اسکو آسانی سے فورڈ نہیں کر سکتا ۔ حکومت اب پھر دو ھ ، دہی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے جس سے دہی پچہتر سے اسی روپے کلو تک ہو جائے گا ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں غربت سے تنگ آئے نوجوانوں اور محنت کشوں میں خود کرشیوں کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے اور پاکستان غریبوں کی خود کرشیوں میں دنیا کا نمبر اول ملک ہے ۔ ایسے بے شمار درد ناک سرکاری اعداوشمار موجودہ ہیں جو چنگاری ڈاٹ کام کے آرٹیکلوں ، اخبارات ، رسائل اور انٹرنیٹ میں با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ جنکی اس مضمون میں گنجائش نہیں ہے ۔۔ ۔ عالمی سطح پر پچھلے تین سال میں خوراک کی قیمتوں میں تراسی فیصد کا انتہائی اضافہ ہو چکا ہے ۔ افریقہ دنیا کا امیر ترین براعظم ہے جس کی اسی فیصدآبادی بھوک اور ننگ سے مر رہی ہے ۔ لیکن دوسری طرف امیروں کی امارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ مقامی اور عالمی فرموں کے منافعوں میں ہر سال کئی سو فیصد کا اضافہ ہو تا ہے۔ عراق کی جنگ سے چار سو نئے امریکی ارب پتی بن گئے ہیں۔ پچھلے سال پاکستان میں سب سے زیادہ منافع غیر ملکی مالیاتی اداروں نے کمایا۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ حالیہ عالمی مالیاتی بحران میں بھی کسی امیر کو کوئی نقصان نہیں ہو جن کی اندھی لوٹ مار موجودہ عالمی مالیاتی زوال کے اصل وجہ ہے ۔ اس کے باوجود تمام دنیا کے حکمرانوں نے عوامی رعائتوں میں کٹوتیوں سے ان بنکوں اور مالیاتی اجاراداریوں کو بھر پور نوازا ہے ۔ آج دنیا کی اسی فیصد معیشت دنیا کی صرف پانچ سو اجارداریاں کنٹرول کرتی ہیں جو اس زمینی کرہ ارض پر تمام ملکوں اور اس میں بسے والے انسانوں کا مقدر لکھتی ہیں ۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں فیصلہ کن کردار سرمایہ ادا کرتا ہے ۔ کوئی کتنا بد کردار ، بدمعاش ، عیاش ، قتل ، سمگلر کیوں نہ ہو اگر اس کے پاس پیسہ ہے تو یہ موجودہ معاشرے میں شریف ترین شخص ٹھہرایا جائے گا ہر کوئی اس کی عزت کرئے گا یہ طاقت ور ہوگا ریاستی ادارے اس کے ملازم ہوں گئے جو اس کا اور اس کے ناجائز سرمایے کا تحفظ کریں گئے ایسا ہی ہو رہا ہے اور یہی سرمایہ داری اور اسکی ریاستوں کا کردار ہے ۔ ۔۔ ۔ اور منڈی کے نظام کی بنیاد انسان نہیں ، جذبات نہیں ، احساس نہیں، ہمدردی نہیں، قربانی نہیں ، مخلصی نہیں، دوستی نہیں ، عزت، رشتے داری نہیں پیسہ پیسہ اور صرف پیسہ ہے جس کو حاصل کرنا ہے جیسے بھی، جب یہ ہے سب ہے جب یہ نہیں تو کچھ نہیں اور یہ سب ہے تو پھر صرف اور صرف دھندہ ہے کیونکہ منڈی میں صرف کاروبارہو تا اور موجودہ عالمی نظام دھندے کا نظام ہے جیسے تہذیب یافتہ مارکیٹ اکانومی یعنی بازاری معیشت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ کم از کم ہم یہ تو جانتے ہی ہیں کہ پاکستان میں آج جتنے بھی امیر خاندان ہیں یہ لوٹ مار اور ناجائز طریقوں سے امیر ہوئے ہیں۔ کیا یہ جائز طریقوں سے دولت مند بنے ہیں؟ نہیں یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ دنیا میں اصل کیپٹل ایک ہی مقدار میں موجود ہے اس لیے جب بھی کسی کے پاس پیسہ بڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی کا پیسہ کم ہو رہا ہے ۔ اسی لیے تو جالب نے لکھا تھا کہ اونچے گھروں میں چراغ ہمارے لہو سے جلتے ہیں ۔ موجودہ نظام میں نہ صرف منافع بلکہ شرح منافع کے لیے کاروبار کیے جاتے ہیں اور پاکستان کی موجودہ صوتحال میں بھی صرف سرمایے کے مفادات حاصل کیے جا رہے ہیں ۔ پاکستان میں تمام دہشت گردیاں بھی بے مقصد نہیں ہیں ۔ ان خود کش بمبار حملوں کا فائدہ سب سے پہلے حکمرانوں اور انکی ریاست کو ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان میں پھن پھلے ، معاشی ، سماجی، سیاسی مسائل کا اژدھا سماج کو ڈس رہا ہے سرمایہ داری جو انسانی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے اس میں سماجی ترقی کی تمام صلاحتیں دم توڑ گئی ہیں آج کے تمام عالمی مسائل جن میں جنگیں ، آئے دن شدید بحران ، بے روزگاری ، مہنگائی ، ریاستی کٹوتیاں ، اور یہ خود کش حملے اس کی ناکامی اور فرسودگی کا واضح ثبوت ہیں ان حقیقی سماجی مسائل کو حل نہ کرنے کی صلاحیت حکمرانوں کو ایشو کی بجائے نان ایشو کو ابھارتے کی طرف مائل کرتی ہے تاکہ حقیقی سماجی مسائل کو دبایا جائے اور ان پرکوئی عوامی تحریک متحرک نہ ہو سکے۔ آج جن کو امریکی ، یورپی، عالمی اور مقامی حکمران اور میڈیا دہشت گرد کہا رہے ہیں کل وہ انکو مجاہدین کہا کرتے تھے ۔ افغان جنگ میں انہوں نے انکی ہر طرح کی مالی سیاسی اور فوجی مدد کی امریکہ نے ہی افغانستان میں جنگی پالیسی کے تحت آئی ایس آئی بنائی جو پاکستان کی فوج سے بالا اور خود محتار فوجی ادارہ تھا انہوں نے سامراجیوں سے خوب ڈالرز کمائے جس سے انہوں نے جائداریں ، کاروبار اور ملاوں کا ایک نیٹ ورک تعمیر کر کے مضبوط کیا ۔ اور آج جب افغان جنگ ختم ہو چکی تو یہ سامراجی پاگل نہیں ہیں کہ یہ اب بھی انکو مفت میں ڈالرز دیتے رہیں انہوں نے ایک کاروبار کیا تھا وہ اب ختم ہو گیا۔ انہوں نے اس کاروبار میں سب کام کرنے والوں کو نکل دیا انکے کڑروں ڈالرز بند ہوگئے جس کو آئی ایس آئی کھبی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور نہ اس نے اسے برداشت کیا اور یہ اپنے ہی آقاوں کے خلاف صف آرا ہوگئی ۔ جس میں امریکی سامراج کی اپنی کمزوری اور اس کے زوال تھے جو انکی طاقت بنی جس سے آج کی یہ نظر آنے والی دہشت گردی حکمرانوں کی اپنی لڑائی ہے اور ریاستی ادرے آپس میں دست و گریبان ہیں جس میں غریب اور معصوم عوام تباہ و برباد ہو رہے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ اور سامراجیوں کو روس کے بعد ایک بظاہر دشمن کی ضرورت تھی تاکہ عوام کی اپنے حقوق اور مفادات کی تحریکوں کو خاموش کیا جائے ۔ اس دشمن سے لڑنے کی ڈرامہ بازی کے لیے عوامی پیشہ بٹورا جائے ،۔ ریاستی کٹوتیاں کر کے سرمایہ داری کے استحصال کو جاری رکھا جائے ۔ اور جو آج پاکستان اور عالمی دنیا میں جاری ہے ۔ پاکستانی ریاست ایک طرف آئی ایس آئی اور بنیاد پرستوں کے ساتھ ہے اور انکی خود کش کاروائیوں یا نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں اس کے خلاف بھی اور اس کے ساتھ بھی رہ کر پیسہ کما رہی ہے ۔ اس جنگ کے خلاف لڑنے کے لیے ریاست پاکستان اور اس کے حکمران سامراجیوں سے ڈالرز لیتے ہیں ۔ امریکی حکمران ، ریاست اور سی آئی اے بھی اس جنگ میں مکمل شامل ہیں ۔ سب کو معلو م ہے کہ امریکہ دنیا میں اسلحہ بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسلحہ بنانا نہ تو اس کی ہوبی ہے اور نہ ہی یہ اسلحہ کسی دفاع کے لیے بنا تا یہ اسلحہ خالصتا فروخت کے لیے اور منافع کمانے کے لیے بنا یا جاتا ہے اس لیے اگر دنیا میں امن ہو گیا تو سب سے پہلے جو ملک دیوالیہ ہو گا وہ امریکہ ہو گا اور امریکہ کافی سیانہ ہے وہ ایسا کھبی نہیں چاہے گا ۔ امریکہ میں تمام اسلحہ نجی ملکیت میں تیا رکیا جاتا ہے اور ان فیکٹریوں کے مالکان ہر امریکی قومی الیکشن میں بے شمار رقم خرچ کرتے ہیں تاکہ انکی حکومت آکر ان کے حق میں پالیساں بنائے یعنی پرانی جنگوں کو تیز کرئے اور نئی جنگیں شروع کرئے تاکہ انکے کاروبار چلیں اور یہ خوب منافع کمائیں ۔ امریکہ کی بڑی ترین معیشت بھی اسلحہ کی ہی ہے اس لیے امریکہ کی ہمیشہ عالمی دنیا پر جنگی پالیسیاں ہی رہی ہیں ۔ اب ہو کیا رہا ہے ایک طرف امریکی ریاست عوامی خزانے سے جنگوں کے لیے اسلحہ خرید رہی ہے تو دوسری طرف ان جنگوں میں سامراجی فوجوں کے خلاف بھی امریکن اسلحہ ہی استعمال ہو رہا ہے ۔ یعنی امریکی یا سامراجی اسلحہ بنانے والی کمپنیاں اپنی فوجوں اور ان کے مخالف لڑنے والوں دونوں کو اسلحہ فروخت کر کے خوب دھندہ کر رہی ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ آن دی ریکارڈ ہے کہ خود کش بمبار جیکٹیں نہایت جدید اور ایڈوانس ہیں جو امریکہ اور یورپ میں تیار کی جاتی ہیں کیونکہ اتنا بارود اتنی صفائی سے پریس کر کے خود کش جیکٹوں میں ڈالنا صرف جدید ترین ٹیکنک سے ہی ممکن ہے ۔ ایک خود کش جیکٹ کی قیمت عالمی منڈی میں دس ہزار ڈالر ہے جو کوئی بھی خرید سکتا ہے جس کے پاس اتنے پیسے ہیں ۔ اتنی مہنگی خود کش بمبار جیکٹ دنیا میں کوئی ایک پارٹی یا جماعت فورڈ نہیں کر سکتی ۔ اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ ان خود کش بمبار حملوں میں آئی ایس آئی جو سی آئی اے کی پرانی ساتھی اور رفیق ہے مکمل شامل ہے ۔ آئی ایس آئی تمام امریکی اسلحہ سی آئی اے کے ذریعے خریدتی ہے اس ڈیل میں سی آئی اے کا اپنا کمیشن ہو تا ہے ۔ تمام اسلامی ممالک جن میں سعودی عرب، کویت ، ایران ، سرفہرست ہیں اپنے مفادات کے لیے براہ رراست یا بل واسطہ آئی ایس آئی کو یہ جنگ قائم رکھنے کے لیے مالی مدد کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ منشیات کے کاروبار کا تمام پیسہ جو اس جنگ میں ایک بڑا حصہ ہے آئی ایس آئی اس نام نہاد امریکہ کے خلاف جنگ میں لگتی ہے ۔ یا مارکیٹ اکانومی کی زبان میں سرمایہ کاری کرتی ہے ۔ اس لیے اب تک اس جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی آئندہ نکلے گا کیونکہ یہ پاکستانی اور عالمی حکمرانوں کی اپنے ریاستی اداروں سے نوار کشتی ہے ۔ جس میں ہر کوئی کمائی کر رہا ہے اور اگر کوئی گھٹے میں ہے تو وہ صرف اور صرف عوام اور محنت کش ہیں ۔ یہ دہشت گردی کے خلاف اور اس کے حق میں موجودہ جنگ ہر طرف سے حکمرانوں کے حق میں ہیں ۔ عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ان پر مسلط کی گئی ہے ۔ اس سے مکمل نجات کے لیے تمام پاکستان کے عوام کو طبقاتی بنیادوں پر متحد ہو نا ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہب ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے اور ہر ایک کو اپنے مذہب میں مکمل آزاد ہونے کا حق حاصل ہے ۔ احمدی لاہوری ہو یا قادیانی ، اہل سنت ہو یا اہل تشیع ، اہل احادیث ہو یا کوئی ا و ر ہندو ، عیسائی ، سکھ ، مسلم سب کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں آزادی ہونی چاہیے ۔ لیکن مذہبی بنیاد پر جماعت بندی عوامی تحریک کے لیے زہر قاتل ہے جس کی کبھی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر مذہبی بنیاد پر جماعت بندی کی اجازت دی جائے تو پھر القاعدہ ، طالبان ، انجمن سپاہ صحابہ ، اور بقیہ تمام مذہبی جماعتیں درست ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی جماعتوں پر فوار مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ انکے بیرونی رابطے منطقع کیا جائیں اور انکے وسائل کے ذرائع تمام اثاثوں اور اکاونٹس کو قومی تحویل میں لیا جائے ۔ مذہبی بنیاد پر جماعت بندی کسی نہ کسی حوالے سے براہ راست یا بل واسطہ موجودہ دہشت گردیوں کی وجہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج تک حکمرانوں اور ریاست نے پاکستان میں عوامی تحریک کو توڑنے کے لیے اقلیتوں کو عام عوام سے الگ تھلگ کرنے اور انکو عام شہریوں کا درجہ نہ دینے کے غیر انسانی قوانین بنائے ہوئے ہیں جو فوری طور پر ختم ہونے چاہیے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کے رہنماوں یا پیشواوں نے بھی اپنے مالی مفادات کے لیے ریاستی حکمرانوں کا مکمل ساتھ دیا ہے اور انہوں نے ان اقلتوں کو دوسری عوام سے کاٹ دیا جو ایک مجرمانہ فعل ہے ۔ کیونکہ ان اقلیوں کا مقدر بھی پاکستانی عوام سے ناگزیر منسلک ہے ان اقلیوں کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے نجات کے لیے پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک کا اٹوٹ حصہ بنا ہو گا اور پاکستان میں ایک اشتراکی انقلاب کی جدوجہد میں شامل ہو کر انقلاب کرنا ہوگا ایک اشتراکی انقلاب کے بغیر یہ پہلے سے زیادہ تباہ اور پستے چلے جائیں گئے صرف ایک اشتراکی انقلاب ہی پاکستان میں تمام اقلیوں کو ہر طرح کا مکمل سماجی تحفظ دے سکتا ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غربت میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سماجی ترقی کے لیے تمام بڑی بڑی مقامی یا غیر ملکی صنعتوں کو جو اب تک عوام اور ملک کی بجائے صرف چند افراد کی دولت میں اضافے کا باعث ہیں فوار قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کو بڑھا کر عوامی ضرورتوں کو پورا کیا جائے ۔ اس سے بے روزگاری کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا ۔ مزدورں کی تنخواہ ایک تولہ سونے کی برابر کی جاسکے گئی اور بے روزگار افراد کو معقول بے روزگاری الاونس بھی دیا جاسکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ صنعتی پیداوار کو بڑھنے کے لیے بڑی بڑی جاگیروں کو جاگیرداروں سے لے کر چھوٹے کسانوں میں مفت تقسم کی جائے تاکہ زراعت ترقی کرسکے اور ملک میں اجناس کے بحرانوں کو ختم کیا جاسکے اور صنعت کے لیے وافر مقدار میں خام مال میسر آسکے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سامراجی قرضوں کو دینے سے انکار کیا جائے کیونکہ ہم سود کی شکل میں قرضوں کی اصل رقم سے کئی گناہ زیادہ رقم ادا کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک میں بار بار فوجی آمریت کے خطرہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی فوج بنائی جائے اور موجودہ فوج میں کمیشن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے اور فوجی افسران عام فوجیوں کی کمیٹیوں کے ذریعے منتخب ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ سامراجی جارجیت کے خلاف ان ممالک کی ٹریڈ یوننوں اور مزدور عوام سے راوابط بنائے اور بڑھے جائیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ عورتوں کے خلاف تما م امتیازی قوانین کا فل فور مکمل خاتمہ کیا جائے ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عالمی سطح پر ایک مزدور پارٹی کی تشکیل کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ اس کے بغیر عوامی نجات ممکن نہیں ہے۔اب فیصلہ ہمارہ ہے ۔ اشتراکیت یا بربریت . . . .. . . . . . . . . . .خود کش حملوں سے نجات ممکن ہے ہم ثابت کرتے ہیں
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved