سرمایہ دارانہ عروج وزوال ۔ مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
مک بروکس ۔ ترجمہ:اسدپتافی
چنگاری ڈاٹ کام،29.04.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جمعرات چوبیس اکتوبر انیس سو اناتیس کوعظیم نیویارک سٹاک ایکسچینج کوتکلیف پہنچنا شروع ہوئی ۔12,894,650حصص ہاتھوں سے نکلنااورپھسلنا شروع ہوگئے۔ ان میں سے بیشتر تو دم توڑنے کی کیفیت میں آگئے اور اونے پونے داموں فروخت ہونے شروع ہو گئے۔کچھ ہی دن بعد یعنی اناتیس اکتوبرمنگل کادن ’’روزسیاہ‘‘بن کر آگیا۔ اور یوں بظاہرٹھوس نظر آنے والے پگھلنا اور بہنا شروع ہوگئے۔ وال سٹریٹ کا یہ زوال دو ادوارپر مشتمل تھا۔یہ عہد انیس سو بیس سے انیس سو تیس کی دودہائیوں پر محیط رہا۔یوں ایک دہائی اس عظیم زوال کی زد میں رہی۔ یہ بات کم و بیش ہر ایک کے علم میں ہے کہ اکتوبر انیس سو اناتیس میں نیویارک میں حصص کو ’’ کچھ مقامی نوعیت‘‘ کے مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑگیاتھا۔اور یہ بات بھی سبھی کے علم میں ہے کہ پھر اس کے نتائج و عواقب اور ان کا خمیازہ اگلے پورے دس سالوں کے دوران انسانوں کو بھوک ننگ کی صورت میں بھگتناپڑااور یہی نہیں حالات کی یہ بدمست سختیاں ایک بڑی عالمی جنگ کی تباہی و بربادی کی صورت میں سامنے آئیں۔ہمیں دیکھنا اور سمجھنا یہ ہے کہ اس سب کا آپس میں کیا رشتہ ہے! ایک ایسا نظام کہ جس کی طرز پیداوارکسی منصوبے سے مبرا و آزاد ہواور جو محض کچھ افراد کے ذاتی منافعوں کیلئے ہی متحرک ہو،اس کے اندر بحرانوں کے بیج بڑی بلکہ بھاری تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو وقتاًفوقتاً اپنا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔یہ بحران زائد پیداوار کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں ۔جس کے باعث پیداوار کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور جس کے نتیجے میں مشینیں چلنا بند ہوجاتی ہیں اور محنت کش بیکارہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ہر ایک بحران کی اپنی خصلتیں، اپنی خصوصیات ہواکرتی ہیں ۔اور یہی اپنے اپنے متعلقہ بحران کی شدت اور اس کے اثرات کا تعین کیاکرتی ہیں ۔مختلف واقعات یا عوامل بحرانوں کے مختلف اثرات کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں ۔ وال سٹریٹ کی گراوٹ ہی عظیم زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی جبکہ اس بار ’’کریڈٹ کرنچ‘‘یعنی قرضہ بازی کی تباہکاری موجودہ جاری وساری گراوٹ اور تنزلی کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی ہے۔ یقینی طورپر بدحواسی(یا حواس باختگی)بھی اس سارے گھن چکر میں اہم کرداراداکرتی ہے۔ سرمایہ داری کے ہر بحران میں بظاہر کئی ایک اتفاقی اورحادثاتی عوامل بھی اپنا اپنا کام کرتے نظر آتے ہیں۔ انیس سو اناتیس ہویا آج کا بحران ،جلد یا بدیر ایک ’’دھڑام‘‘نے برپاہوکے رہنا ہے۔ امریکہ میں انیس سو اناتیس میں صنعتی پیداوار کا انڈیکس جون میں ایک سو ستائیس ، ستمبر انیس سو اناتیس میں ایک سو بائیس ، اکتوبر ایک سو سترہ ، نومبر ایک سو چھ اوردسمبرمیں ننانویں تک گرا۔ آٹوموبائل شعبے میں مارچ انیس و اناتیس میں پیداوار میں چھ سو ساٹھ ہزار یونٹس کمی، اگست میں چار سو چالیس ہزار ، ستمبر چار سو سولہ ہزار ، اکتوبر۔ تین سو انیس ہزار،نومبر ایک سو انسٹھ ہزار پانچ سوجبکہ دسمبر میں بانویں ہزار پانچ سویونٹس کی کمی واقع ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں وال سٹریٹ کے پھٹنے تک کے دوران بحران، حقیقی معیشت کے اندرہی اندراپناکام کرتاچلاجارہاتھا۔ واقعات کی تاریخ کو رقم کرنے والا مورخ گلبرائیتھ لکھتاہے کہ ’’ علت ومعلول کا قانون عمومی معیشت سے سٹاک مارکیٹ تک بلاکسی رکاوٹ کے اپنا کام کرتا اور اپنے اثرات مرتب کررہا تھا۔اگر انیس سو اناتیس میں معیشت حقیقی معنوں میں مضبوط ہوتی تو سٹاک مارکیٹ کا کریش اتنے تباہ کن اثرات نہ مرتب کرتا ‘‘۔پیداوار میں کمی کا بحران حصص کی منڈی میں اپنا اظہارکرگیا۔جو دراصل خوابوں ا ور سرابوں کی منڈی ہواکرتی ہے۔جبکہ پھر حصص کی منڈی کے اس زوال نے اپنا غصہ پیداوار اور منافعوں کی منڈی پر اتارا۔ انیس سو اناتیس میں ہونے والا سٹاک مارکیٹ کا یہ بحران عالمی پیمانے پر معاشی مصائب و مشکلات کا نکتہ آغاز ثابت ہوا۔یہ ایک انتہائی غیرمعمولی، ناخوشگوار زوال و انہدام تھا ۔صرف امریکہ میں انیس سو اناتیس سے انیس سو تیتیس کے دوران تیس فیصد قومی آمدنی ختم ہوگئی۔جبکہ اسی شرح سے قومی پیداوار میں بھی زوال آگیا۔ انیس سو تیتیس تک مجموعی ورک فورس کا ایک چوتھائی سے زیادہ روزگارسے محروم ہوچکاتھا ۔لیگ آف نیشنز(اس وقت کی نام نہاد اقوام متحدہ) کے اعدادوشمار کے مطابق انیس سو اناتیس سے انیس سو بتیس کے عرصے میں عالمی بیروزگاری کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوگیاتھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعدامریکہ نے عالمی معیشت میں اہم ترین کرداراداکیاتھا ۔اوراس کا یہی اہم ترین کردار ہی اس عالمی زوال کا رہبرورہنما ثابت ہوا۔یہ اہم ترین کردارنئی اور فروغ پاتی صنعتوں کی کیفیت سے لیس تھا ۔اس کی برکتوں سے بہت بڑی تعداد میں کاریں اور الیکٹرانک مصنوعات پیداکی گئیں جبکہ بجلی کی بھی وسیع پیمانے پر پیداوار کی گئی اور ظاہر ہے ، اس سب کیلئے تعمیرات بھی بھاری پیمانے پر ہوئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انیس سو بیس کی دْہائی دیتی دوہائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دیا ئی کا عروج بہت کیفیات میں انیس سو سات سے قبل ختم ہونے والے عروج سے مماثلت رکھتا ہے۔مذکورہ عروج کسی طورپر بھی کارکنوں کی اجرتوں میں کسی بھی اضافے سے محروم تھا جبکہ اس کے برعکس یہ انتہائی معاشی ناہمواری اور بے پناہ منافعوں کا حامل تھا ۔ سانیس سو پچیس ے انیس سو اناتیس کے دوران امریکہ میں صنعتی حصص کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ چکی تھیں ۔ انیس سو چھبیس تک یہ سب پر عیاں تھا کہ سٹاک مارکیٹ پر سٹے بازی کا بخار اپنی انتہاؤں کو چھورہاتھا۔اس دہائی میں فلوریڈا، امریکہ میں پھولنے والا جائیدادکا بلبلہ ،حالیہ عرصے کے پراپرٹی کے بلبلے جیسے لوازمات کا حامل تھا ۔اور بلبلے کسی خطے‘ کسی موسم‘ کسی جغرافیے کے بھی ہوں ،پھٹنا ہی ان کا مقدرہوا کرتاہے۔ جوئے بازی کا یہ بخار ’’ حصص کی مناسب مارجن پر خریداری‘‘ سے مزین تھا۔یعنی یہ کہ آپ ایک حصص کے کچھ حصے کیلئے اپنی رقم کو اپنے ہاتھ سے جانے دے رہے ہیں۔یوں جب تک کہ حصص کی قیمتیں جس حد تک اوپر کو جاتی رہتی ہیں تب تک آپ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی خوشحالی کی توقع کے حصار میں آئے رہتے ہیں ۔اور وہ بھی ایک ایسی بے انت خوشحالی جس کیلئے کوئی کوشش‘ کوئی محنت درکار نہیں ہوتی۔ایساہی، بالکل ایسا ہی بخار ہم حالیہ دنوں میں ابھی دوہی سال پہلے بینکوں کو ہوتادیکھتے ہیں جنہوں نے اپنے اثاثوں کی مالیت سے تیس فیصد یہاں تک کہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ قرضے دینا شروع کر دیئے تھے۔جس کے نتیجے میں گھروں اور جائیدادوں کی قیمتیں آسمان کو پہنچنا شروع ہوگئیں۔کیفیت پچھلی صدی کی ہو یا حالیہ وقتوں کی نتیجہ دونوں کا ایک ہی نکلااوروہ ہے؛ اشکوں کی مسلسل برسات۔ لیکن پھر ہر بحران اپنی نوع اور اپنے لوازمات میں ایک دوسرے سے مختلف ومنفردہواکرتاہے۔خواہ ان کے عوامل وعناصر کتنے ہی مماثل کیوں نہ ہوں۔ انیس سو اناتیس کا زوال ، آج کے بحران سے کافی مختلف بھی نظرآتاہے۔پہلی عالمی جنگ نے شمالی اور لاطینی امریکہ اورآسٹریلیشیا کے ملکوں میں غذائی زراعت کی برآمدات کو تیز تر کردیاتھا تاکہ یورپ کے فوجیوں کی غذائی ضروریات پوری کی جاسکیں۔عالمی جنگ کے بعد ادارہ جاتی پیداواراور محرومی میں شدیداضافہ ہوا۔ انیس سو بیس کی دہائی میں مجموعی عالمی آبادی کا دوتہائی محض دو وقت کی روٹی کی اوقات تک پہنچ گیاتھا۔اس سے زیادہ بسراوقات کا سوچنابھی محال ہو چکا تھا۔ زرعی اجناس کی قیمتوں کا انہدام ہی عالمی تجارت کے سوتے خشک کرنے کی بڑی وجہ بنا۔ عالمی تجارت کو ڈبونے والی دوسری بڑی وجہ جس نے تقریباًسبھی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا ،وہ تھی پروٹیکشنزم کواپنانے اور ایک دوسرے سے مقابلے میں قدروقیمت گرنے کی لہر۔ان سب نے مل کر تنزلی کے عمل کو اوربھی تیزکردیا ۔ قدروقیمت میں کمی نے سونے کے معیارکے رحجان کو کونے کھدرے میں لگادیا۔ اس عظیم زوال کے دوران عالمی ادائیگیوں کا یہ نظام شدومدسے تباہ وبربادہوکر رہ گیا۔ایک ایسا ماحول بن چکاتھا کہ جس میں ہر ملک دوسرے ملک پر سارا گند اورسارا بوجھ ڈالنے کے درپے ہو چکاتھا۔ اس کشمکش اور کشاکش نے سب کو زبوں حال کرکے رکھ دیا۔ وہ کیاچیزتھی جس نے انیس سو اناتیس کے زوال کو اتنا گہرا،اتناشدید بناڈالاتھا؟ انی سو بیس کی دہائی کاعالمی تجارت کا فروغ ، انیس سو تیس کی دہائی میں کیونکر منہدم ہوگیا؟معاشیات کے روایتی نظریے کے مطابق غریب ملکوں کو امیر ملکوں سے قرضے لینے پڑتے ہیں۔لیکن اس روایت اور اصول کے بالکل برعکس انیس سو بیس کی دہائی میں دیوالیہ ہوچکے جرمنی کو اپنے فاتحین کے ہونے والے نقصانات کا خمیازہ اورکفارہ اداکرناپڑرہاتھا۔ اسے شکست دینے والوں نے نچوڑلیاتھا۔اس قسم کے نگران یافتہ اور ضرررساں اقدمات نے اپنے ناگزیرمگرہولناک نتائج مرتب کرناتھے۔ان کے انہدام نے عالمی قرضے بازی کے کچے دھاگے کو توڑکررکھ دیاتھاجس سے عالمی تجارت کی رہی سہی سکت بھی جواب دے گئی۔ ایسے ہی پچھلے کئی سالوں سے دنیابھرکا سب سے بڑامقروض ملک امریکہ ہی چلا آرہاہے جو کہ چین سمیت کئی غریب ملکوں کے بل بوتے پر اپنی سج دھج اور شان وشوکت قائم رکھے ہوئے تھا۔مارٹن وولف جو کہ مالیاتی سرمائے کا گروسمجھاجاتاہے ،اس نے بار بار خبردار کیاہے کہ اس قسم کا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پائے گا ۔وہ لکھتاہے کہ’’مغربی مالیاتی نظام کا سٹے بازانہ انہدام اسی ایک بڑی حقیقت کی ہی نشاندہی کرتاہے جو آگے چل کر عالمگیر معیشت کو ازسرنواپنا توازن قائم کرنے پر مجبورکردے گا۔اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو عالمی معیشت ٹوٹ جائے گی۔یہی انیس سو تیس کی دہائی میں ہواتھا اور یہی حقیقی خطرہ ہے جو سامنے موجودہے‘‘۔ فنانس ٹائم دو دسمبر دو ہزار آٹھ ،، ۔ انیس سو اناتیس کے انہدام کے اسباب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بینکوں کا بحران،اس سارے مجموعی بحران کی اصل وجہ نہیں تھا بلکہ وہ اس بحران کو مزید بھڑکانے اور گہراکرنے کا باعث بناتھا۔کینیزین ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ خودمختار اخراجات میں گراوٹ آگئی۔خاص طورپر سرمایہ کاری میں۔ یہ بات یقینی طورپر درست ہے کہ انیس سو اناتیس اور انیس سو تیتیس کے دوران نجی سرمایہ کاری میں نوئے فیصد گراوٹ آئی‘تعمیرات میں پچاسی فیصدکمی ہوئی‘جبکہ بھاری اشیاء کی پیداوار میں پچہتر فیصد گراوٹ ہوئی۔مگر یہ کیوں ہوا؟جو وجہ نظرآتی ہے وہ یہ کہ نئی صنعتوں اور نئی منڈیوں میں منافع خوری جو انیس سو بیس کی دہائی کے اوائل میں عروج پر تھی ،وہ اس دہائی کے آخر تک سکڑ کر رہ گئی تھی۔دوسرے الفاظ میں عروج کسی نہ کسی شکل میں اپنے انجام کو پہنچ رہاتھا۔عروج اورزوال سرمایہ دارانہ ترقی کا لازمہ چلے آرہے ہیں۔ ملٹن فرائیڈ مین جیسے مانیٹرسٹ سارے کا سارا الزام رقم کی فراہمی میں گراوٹ کو قراردیتے ہیں ۔جس کی وجہ یہ تھی کہ سارا بینکنگ کا نظام ہی مجموعی طورپر منہدم ہوچکاتھا۔ انیس سو تیتیس تک امریکہ میں نو ہزار بینکوں کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو چکے تھے ۔ انیس سو تیس ، اکتیس اور انیس سو تیتیس کے اندر تین بڑی طوفانی لہروں کے نتیجے میں یہ سارے بینک دارفانی سے رحلت فرما چکے تھے ۔لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یہ انہدام تاخیر سے ہواتھا تاہم انہوں نے بھی تباہی کو بنانے سنوارنے میں اہم کردار اداکیاتھا۔مالیاتی انتشار نے پیداواری انہدام کے ساتھ مل کر معیشت کا تختہ گول کردیا۔
کنڈل برگر نے بجاطورپر لکھاہے کہ ’’سرمائے کی کوئی بھی مقداری تھیوری یا پھر خودمختارانہ طور پرخرچ کرنے کے رحجان میں تبدیلی،خواہ سٹاک مارکیٹ میں انحطاط ہو یا نہ ہو،ان جیسے حالات کا باعث بن سکتے ہیں۔انہیں کریڈٹ سسٹم کی قدیم روایتی تھیوری ہی کافی ہوتی ہے‘‘۔(Manias, panics and crashes)مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے تحت پیداوارسماجی ہواکرتی ہے۔دنیا بھر میں ،پیداکرنے والوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہوتاہے۔اور اس کا پتہ تب چلتاہے جب منڈی کا نظام،جب سرمائے کا نظام اس سب کو چلانے کیلئے گریس کا کا م کرتاہے اور جب منڈی اور سرمایہ گرتے ہیں تو سب گر جاتا ہے۔ مارکس نے بھی ایسی ہی نشاندہی کی تھی اور کہاتھا کہ ’’کشش ثقل کا قانون اس وقت ہمارے مشاہدے میں آتا ہے جب کوئی مکان گرتاہے اور اس کے گرنے کی آواز ہمارے کانوں میں آتی ہے‘‘۔
حکومتوں نے دیکھا کہ ان کی ٹیکسوں کی آمدنیاں گرچکی ہیں چنانچہ وہ بحران کے شدیدہوتے ہی کسی قسم کے ریلیف دینے کی پوزیشن سے محروم ہوتی چلی گئیں۔اس کا فطری نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ان کو بجٹ خسارے کا سامناکرناپڑگیا۔ان خساروں کو اس وقت کے معاشی ماہرین نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔مثال کے طورپر برطانیہ میں اس وقت کی لیبرحکومت کو اسٹیبلشمنٹ نے حکم دیا کہ جیسے تیسے ہو وہ بجٹ کو ہر حالت میں متوازن کرے۔ اس کیلئے انہیں بیروزگاروں کو دی جانے والی مراعات میں کٹوتیاں،اجرتوں میں کمی،اساتذہ سمیت دیگر سماجی شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں کم کرنی پڑیں۔ اس کے فطری رد عمل کے طورپر لیبر کی پارلیمانی پارٹی میں پھوٹ پڑناتھی۔کیونکہ لیبرپارٹی نے اس کام کیلئے الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔رمزے میکڈونلڈنے کچھ اور غداروں کے ساتھ مل کر ’قومی حکومت ‘‘قائم کرلی۔تاکہ ٹوریوں کے ساتھ مل کر ان عوام دشمن اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔اس کے بعد ہونے والے عام الیکشن میں کٹوتیوں کے حامیوں نے جب اتحاد تشکیل دیتے ہوئے آزادلیبرپارٹی کے امیدواروں کے خلاف الیکشن لڑا تو ان کو پارلیمان میں صرف54سیٹیں حاصل ہو سکیں ۔اس کو زیادہ مناسب الفاظ میں کہا جائے تو یہ برطانیہ کی لیبر تحریک کو ایک بہت بڑانفسیاتی دھچکاتھا۔ یہ بات کسی طور نہیں بھولنی چاہئے کہ عین بحران کے عروج کے وقتوں میں کی جانے والی کٹوتیوں کی یہ پالیسیاں قطعی طورپر بھی کوئی بحالی نہیں کرپائی تھیں۔یہ مکمل طورپر ناکام رہی تھیں۔اسی قسم کی پالیسیاں مارگریٹ تھیچر نے انیس سو اسی کی دہائی کے بحران میں اپنائی تھیں ۔اس پالیسی کا بھی ایک ہی واضح مقصد تھایعنی بحران کا سار ابوجھ محنت کش طبقے پر ڈال دیا جائے۔برطانیہ میں ہونے والے اگلے عام الیکشن میں بھی ٹوری پارٹی، کیمرون کی قیادت میں ایک بارپھر اسی پالیسی کو نافذاورمسلط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔نیولیبر مسلسل خرچ جاری رکھنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک بھاری حکومتی خسارے کی زد میں ہیں ۔لیکن وہ ٹوریوں کے ساتھ اس پر متفق ہیں کہ آگے چل کر ریاستی مالیاتی خساروں کو متوازن کرنے کیلئے بھاری کٹوتیاں کرنا ناگزیر ہوگا۔
امریکہ میں روزویلٹ نے انیس سو تیتیس میں صدارت کا منصب عین اس وقت سنبھالاتھا کہ جب بحران اپنے عروج پر تھا۔ ڈیموکریٹس کے نمائندہ ایک عوام دوست سیاستدان کے طورپراس نے اپنا ہدف کچھ یوں بیان کیاتھا کہ ’’باقی رہنا ہے تو اصلاحات کرناہوں گی‘‘۔اس کا ’’نیا معاہدہ‘‘ بحران کی اتھاہ گہرائی،اس سے جنم لینے والے غم وغصے،اور سارے سرمایہ دارانہ نظام کو درپیش خطرے کی موجودگی کا اعتراف اور اظہارتھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نیا معاہدہ‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روزویلٹ کی معاشی چابکدستیوں اور سرگرمیوں کا انیس سو تیس کی دہائی کی کینیشین پالیسیوں کے عروج کے ساتھ کئی حوالوں سے تصادم ہوا۔جو کہ ناکام و نامراد قدیمی طورطریقوں کے متبادل کے طورپر اپنانے کی کوشش کے طورپر کی گئیں ۔کینز نے کبھی بھی خود کو لیبر موومنٹ کے ایک نمائندے کے طورپر محسوس نہیں کیاتھا۔ اس نے اعلان کیا کہ ’’جب بھی طبقاتی لڑائی شروع ہوگی تومیں پڑھے لکھے سرمایہ داروں کا ساتھ دوں گا‘‘۔کڑے وقتوں میں بجٹ کو متوازن کرنے کی بجائے کینز نے سوچا کہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہئے ،اور اگر ضروری ہو تو دانستہ طورپر بجٹ خسارے میں جانے دیا جائے۔تاکہ طلب کے اجتماع کو بر قرار رکھا جا سکے۔ نو منتخب صدر روزویلٹ نے لاکھوں بیروزگار امریکیوں کا بنی بنائی سکیموں میں اندراج کیا اورحکومتی خزانے سے کروڑوں ڈالر اس سلسلے میں خرچ کئے ۔اس ضمن میں کام کرنے والوں کو پوری اجرت نہیں دی جاتی تھی بلکہ ان کو زندہ رہنے کیلئے کچھ نہ کچھ بھینٹ دی جاتی تھی۔ یہ بیروزگاری سے بچاؤ کا کوئی منصوبہ نہیں تھا بلکہ محض ایک ریلیف تھا ،اورا س کے ذریعے بھی محض بیروزگاروں کی ایک چوتھائی ہی مستفیدہوسکی۔روزویلٹ نے زائد پیداوار کو انہی طورطریقوں سے کام میں لانے کی کوشش کی جو کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ممکن تھے۔اوریہ نظام ذرائع پیداوار کو تباہ کرکے ہی اپنا کام چلاتاہے۔ روزویلٹ نے بھی اسی وطیرے کو اپنی مددومعاونت فراہم کی۔ انیس سو تیتیس میں اس نے امریکی کسانوں کو رقم فراہم کی کہ وہ سو ملین ایکڑ سے کم کپاس کاشت کریں۔(جوکہ سالانہ پیداوارکاایک چوتھائی بنتاہے)۔ اس دوران چھ ملین سورذبح کردیئے گئے۔یوں جتنا زیادہ خرچ کیا جارہاتھا اتنی زیادہ بھوک اور غربت پیداہورہی تھی۔یہ ایک پاگل پن تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس نئے معاہدے نے کچھ کیابھی؟نہیں وہ ایسا کچھ نہیں کر سکاتھا۔اس وقت بھی آج کل کی طرح ،سرمایہ دار طبقے کے اہم حصے بیروزگاری سے نمٹنے پر توجہ دینے کی بجائے حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں پر زوردے رہے تھے۔ انیس سو چھتیس کے الیکشن میں اپنے ریپبلکن مخالف امیدوارکو پچھاڑتے ہوئے روزویلٹ امریکہ کے غریبوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیاتھا۔ انیس سو سنتیس میں اس نے سرمایہ داروں کے دباؤ کے تحت بجٹ خسارے کو کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہر قسم کے ریلیف پروگرام کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا اورفیڈرل سوشل سکیورٹی ٹیکس جمع کئے جانے لگے۔اس کے نتیجے میں وفاقی خسارہ مجموعی قومی آمدنی کے پانچ اعشاریہ چار فیصد سے کم ہوکر ایک اعشاریہ دو فیصد ہوگیا۔ اس سکڑاؤکا نیچے معیشت کی زبوں حالی اور خستگی سے ٹکراؤ ہوا،، جسے روزویلٹ بحران قراردیاجاتاہے،، ۔ اور جس کے نتیجے میں انیس سو سنتیس میں بیروزگاری میں شدید اضافہ ہوگیا۔ لاکھوں انسانوں کو ان کے ریلیف پروگراموں سے محروم کردیاگیااور کروڑوں کی امیدوں کو محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دیاگیا۔ انیس سو چالیس تک امریکہ کے اندر دس ملین سے زیادہ افراد بیروزگار تھے ۔جیساکہ کینیشین ماہر معیشت پال کروگ مین لکھتاہے کہ’’ایک بہت بڑے پبلک ورکس پروگرام نے مکمل روزگارکو بحال کردیا،جسے عام الفاظ میں دوسری عالمی جنگ کہا جاتاہے‘‘۔اس جنگ کی بس معمولی سی قیمت ہی تو دینی پڑی تھی یعنی صرف پچاس ملین انسانوں کی زندگی! یوں محنت کش طبقے کو ایک کے بعد دوسری بھیانک اور مہلک مصیبت کا سامناکرناپڑا۔ ایک اور فرق جو آج اور انیس سو اناتیس کے بحران میں ہے کہ حکومتیں اس بحران میں مداخلت کررہی ہیں اور یہ سب کی سب صورتحال کے سیاسی مضمرات سے ڈری اور سہمی ہوئی ہیں ۔ امریکہ میں روزویلٹ کے انتخاب سے پہلے صدر ہوور نے غربت کے خاتمے کیلئے قطعی کچھ نہیں کیاتھا ،اس کو اگر آج یاد بھی کیا جاتا ہے تو ان ’’ہوور بستیوں اور جھونپڑپٹیوں‘‘کے حوالے سے جو اس کے عہد میں بیروزگار،بے گھر اور بے امید اجڑے ہوئے لوگوں نے سارے امریکہ میں بسائی تھیں۔ دو ہزار سات کے بعد سے حکومتیں انہدام کے خلاف مداخلتیں کرتی چلی آ رہی ہیں۔اس غرض سے انہوں نے بینکوں کو بیل آؤٹ پیکیج دیئے ہیں ،یہ ویسی ہی ذہنیت کی عکاسی ہے جو کہ پچھلے عظیم زوال کے دوران مسولینی نے اپنائی تھی جوکہ انفرادی اور نجی نوعیت کی حامل ہے جبکہ نقصان اور خسارے کی کیفیت سماجی اور عوامی ہے۔حکومتوں نے بینکوں کے خساروں کو قومی تحویل میں لے لیاہے جبکہ منافعوں کو نجی ہاتھوں میں منتقل کردیاہے۔اس کے نتیجے میں برطانوی قومی قرضے میں ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین پونڈزکا اضافہ ہوچکاہے اور یہاں حکومت کو اپنی جی ڈی پی کے دس فیصد خسارے کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ بکہ امریکہ کو یہ بیل آؤٹ پلان تائیس اعشاریہ سات ٹریلین ڈالرز میں پڑرہاہے۔جبکہ کہنے والے اس اعداوشمار میں زیادہ کی رقم کی بات کر رہے ہیں ۔یہ رقم ادھار لی گئی ہے اور جسے ادابھی کرناپڑے گا۔اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ جکڑبندی آئندہ کسی وقت ہونے والی بحالی کا اس کے پیداہوتے سمے گلہ دبا دے گی۔ شرح سود کو کم کرنے کیلئے مانیٹری پالیسی اختیار کی جارہی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں شرح سود کوریکارڈ سطح پر کم سے کم رکھاجارہاہے۔لیکن ایسالگ رہاہے کہ اس کے کہیں بھی سودمنداثرات مرتب نہیں ہوپارہے ہیں ۔ایک سالانہ پالیسی کے طورپر بجٹ خسارے کو کینیشین ماہرین کے احکامات کی روشنی میں کم کرنے کی کوشش، طلب کے اجتماع کو ممکن بنانے میں کامیاب نظرنہیں آرہی۔کیونکہ بینکوں نے سرمائے کو محض اپنے اثاثوں کی بحالی اور ان کی تعمیرنوپر ہی لگانے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔اس وقت اس مرحلے پرہم یہ نہیں جانتے کہ حکومت نے بحران کی آگ پر قابوپانے کیلئے کتنی مٹی ڈالی ہے مگر یہ یقینی طورپر بحالی کیلئے کوئی خوش کن اور حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں لا رہی ہے۔ مارکسزم اور مارکسسٹوں کے حوالے سے ایک پیروڈی مشہور ہے کہ ہم بحران کو ہمیشہ خوش آئند سمجھتے اور خوش آمدید کہاکرتے ہیں۔ایسا کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں عوام کے دکھوں‘ ان کی محرومیوں اور تنگدستیوں سے کوئی سروکار نہیں ہواکرتا۔اور ہمیں صرف محنت کش طبقے کے شعور پر مرتب ہونے والے ریڈیکل اثرات سے ہی لینادیناہوتاہے جو اس قسم کے حالات ان پر مرتب کریں گے۔ہم صرف ان حالات میں کف افسوس ملتے ہوئے ، صرف یہ کہتے ہوئے اکتفا کرلیتے ہیں کہ’’ بس جی یہ بہت بڑی زیادتی ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی معاملات اور کیفیات بارے اس قسم کے تبصرے ان سنجیدہ تجزیوں سے کہیں مختلف اور الگ ہوتے ہیں جو کہ ہمیں لینن اور ٹراٹسکی کی تحریروں میں ملتے ہیں ۔ جیساکہ کامریڈٹراٹسکی نے انیس سو تیس میں لکھا بھی ’’مسئلہ یہ ہے کہ استحصال میں مسلسل اضافہ کسی طور بھی محنت کش طبقے کے اندر لڑنے کے جذبے کو تیز نہیں کیا کرتا۔چنانچہ ایک انحطاط سے منسلک بڑھتی ہوئی بیروزگاری ،وہ بھی خاص طورپر شکستوں کے بعدکی کیفیت میں بڑھتاہوا استحصال عوام کی ریڈیکلائزیشن نہیں کیا کرتا بلکہ اس کے برعکس ان میں بیزاری‘ اکتاہٹ اور انتشار کی کیفیات جنم لیتی ہیں۔مثال کے طورپر ہم نے ایسا برطانیہ میں انیس سو چھبیس کی ہڑتال کے بعد بھی ہوتا دیکھا ہے۔اس سے بھی کہیں بڑے پیمانے پر ہم روس میں انیس سو سات کے صنعتی بحران کا انیس سوپانچ کے انقلاب سے اتصال دیکھتے ہیں۔ اگرپچھلے دوسالوں کے دوران استحصال میں ہونے والی شدت کے نتیجے میں ہڑتالوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے تو اس کی وجہ معاشی بہتری تھی نہ کہ معاشی ابتری‘‘۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ بحران اور شعور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمومی طورپر بحران کا شعور کے ساتھ کوئی براہ راست خودکار تعلق ناطہ نہیں ہواکرتا۔محنت کش کیا سوچتے ہیں اور کس قسم کے اسباق اخذکرتے ہیں اس کا دارومدار طبقاتی جدوجہد کے اس سارے زندہ عہد پر ہوتاہے جس کا وہ تجربہ کر چکے ہوتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ بحران ان کے اندر سرمایہ دارانہ نظام کے بارے سنجیدہ سوال ضرورپیداکرتاہے اور اس کی ناکامی جب سب پر عیاں اور نمایاں ہو چکی ہوتی ہے۔لیکن پھر معاملات ویسے نہیں چل پارہے ہوتے جیسے پہلے ماضی میں ہواہوتاہے۔لیکن پھر یہ سب لازمی نہیں ہے کہ کسی انقلابی صورتحال کو بھی جنم دے ۔ انیس سو اناتیس کا بحران کئی سالوں تک نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی مضمرات کا بھی حامل رہا۔کئی ملکوں میں اس کے نتیجے میں انقلابی اوردرِ انقلابی دونوں قسم کے واقعات رونما ہوئے۔ہر جگہ جو کچھ ہوا ،اس کے نتائج کا سارا دارومدار صرف ایک بات پر تھا کہ اس وقت اس ملک میں محنت کش طبقے کی قیادت نے کیا کیاتھا؟ آئیے پہلے ہم برطانوی محنت کش طبقے کو سامنے رکھتے ہیں ۔ برطانوی محنت کش طبقے نے اس عظیم عالمی زوال میں اس وقت قدم رکھاجب وہ ابھی تین سال پہلے ہی اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کے تلخ تجربے سے دوچارہوئے تھے۔ انیس سو چھابیس میں ٹریڈیونین کانگریس نے برطانوی حکمران طبقے کی جانب سے کان کنوں پر ہونے والے شدید حملوں کے خلاف اور ان سے اپنے اظہار یکجہتی کیلئے ایک عام ہڑتال کی کال دی۔ان کان کنوں کی حقیقی اجرتوں میں کٹوتی اور ان کے اوقات کار میں اضافہ کردیاگیاتھا۔یہ عام ہڑتال انتہائی جاندار تھی۔اس کے نتیجے میں پیداہونے والے انقلابی اثرات سے گھبراکرٹریڈ یونین کانگریس کی قیادت نے بغیر کسی ضمانت کے معاہدہ کرلیا اور یوں کان کنوں کو بالکل الگ چھوڑدیا کہ وہ اکیلے اپنی لڑائی لڑیں۔صنعتی میدان میں شکست کھانے کے بعد محنت کش طبقے نے سیاسی میدان میں سرگرمی دکھائی اور انیس سو اناتیس میں لیبر حکومت قائم کر دی۔لیکن اس بانجھ حکومت نے بجائے کچھ کرنے کے بیروزگاری میں اور بھی اضافہ کیا ۔ انیس سو اکتیس میں برطانیہ میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد بیروزگار ہو چکے تھے۔میکڈونلڈاپنے ہمنواؤں کے ساتھ بعد ازاں ٹوریوں کے ساتھ جا ملااور بعد ازاں لیبر کو بدترین شکست سے دوچارہوناپڑا۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ برطانوی محنت کش طبقے کو کیا کرنا‘ کس طرف جانا چاہئے تھا؟پانچ سالوں میں انہیں صنعت اور سیاست دونوں میدانوں میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔ ان کے جوش جذبے ماند پڑ چکے تھے اور پھر آنے والے بحران نے تو ان کی بارگیننگ پوزیشن کو تو اور بھی مضمحل کر کے رکھ دیا۔اس دہائی کے ابتدائی سالوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھوکے لوگ سڑکوں پر مارچ کرتے پھر رہے تھے اور مقامی سطح پر لوگ اپنے معیار زندگی میں کٹوتیوں پر لڑائیاں لڑرہے تھے ۔یہ سچ ہے کہ اس دہائی کے بعد کے سالوں میں محنت کش طبقے کے کچھ حصے کسی حد تک سنبھل چکے تھے اور وہ کسی حد تک جدوجہد کی پوزیشن میں بھی آچکے تھے لیکن یہ جذبہ بھی جلد ہی پھوٹ پڑنے والی نئی جنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ امریکہ میں ٹریڈیونین ازم ان سالوں کے دوران انحطاط پذیر تھا۔اگر کوئی محنت کش منظم تھے بھی تو صرف وہی جو کہ ہنر مندتھے۔لیکن جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ اس سارے عرصے کی خصوصیت نئی اور بھاری پیداوار دینے والی صنعت کا بے تحاشا فروغ تھا ۔ان میں کارسازی کی صنعت بھی تھی جس میں نیم ہنرمنداورغیر تربیت یافتہ کارکن کاریگر موجود تھے۔ انیس سو اناتیس سے انیس سو بتیس کے دوران بیروزگاروں کی تعداد پندرہ ملین سے بھی بڑھ چکی تھی۔جس کا ایک تہائی سے بھی زائد محنت کشوں پر مبنی تھا ۔ایسی کیفیت میں اگر کچھ لوگوں کو کام میسر بھی تھا تو اس کی نوعیت اور حالت ایسی تھی کہ جس کی وجہ سے وہ اپنا اپنی زندگی سے تعلق قائم رکھ سکتے تھے۔اور اس کیلئے انہیں کام کی جگہوں پر ایڑیاں رگڑنے کیلئے بھی کہا جاتاتو وہ کرتے۔ ایک جعلی اور مصنوعی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ سب محنت کش طبقے کی پست حوصلگی اور بزدلی دکھائی دیتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہنا بھی انتہائی بھونڈاپن ہوگا کہ یہ سب سرمایہ دارانہ نظام کو قبول کرلینے کے مترادف ہوتاہے۔محنت کش یقینی طورپر مضطرب تھے ،غصے میں تھے مگر ان کو تنہائی اور بے یاری ومددگاری کے جہنم میں دھکیلا جارہاتھا۔ انیس سو تیتیس میں جب معیشت میں ذرا سی بھی سکت بحال ہوئی تو بھی محنت کش طبقے نے اپنی جدوجہد کا ہر موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ انیس سو تائیس سے انیس سو بتیس کے دس سالوں میں امریکہ میں دس ہزارسے بھی کم ہڑتالیں سامنے آئیں۔جن میں چار ملین سے بھی کم محنت کش شریک ہوئے تھے۔یہ دریا اس وقت سرکشی سے بہہ نکلا جب انیس سو چوتیس میں ٹولیڈو آٹولائٹ کی بڑی ہڑتالیں مینیاپولس ٹی ماسٹرز نے منظم کیں ،اسی طرح سان فرانسسکو کے لانگ شورمینز کی جانب سے بھی بڑی ہڑتال کی گئی ۔ان ہڑتالوں کی قیادتیں محنت کشوں کی نئی جوشیلی پرتیں کر رہی تھیں ۔اور ان میں ان سبھی خود ساختہ لیڈروں کا رتی بھر عمل دخل نہ تھاجو بزعم خویش جہاندیدہ تھے اور جو ٹریڈیونین چلاچلا کے تھک چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہڑتالوں کے طوفان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ انیس سو چھتیس سے انیس سو پنتالیس کی دہائی کے دوران کل پنتیس ہزار ہڑتالیں منظم کی گئیں اور سولہ ملین سے زیادہ محنت کش اس طبقاتی لڑائی میں شریک ہورہے تھے۔’’محنت کش طبقے کی دیومالائی حرکت ‘‘کے نام سے جانا جانے والایہ عرصہ ’’یونینائزیشن ‘‘کا حامل تھا جس میں صنعتی شعبہ خاص طورپر سرگرم ہوااور جس میں ہر قسم کے ورکروں کو خواہ وہ کتنے ہی‘ کیسے ہی ہنرمند تھے ،شریک کیاگیا۔طبقے کی یہ ریڈیکلائزیشن اپنا اظہار سیاسی انداز میں بھی کر رہی تھی ۔زیادہ سے زیادہ محنت کشوں نے ’’نئے معاہدے‘‘ کو دیکھا‘ پرکھااور وہ سرمایہ داروں کے نمائندوں کی جگہ اپنے طبقاتی نمائندوں کی تراش اور تلاش میں سرگرداں نظر آئے۔ انیس سو اسی کی دہائی نے انیس سو اناتیس کے وال سٹریٹ کریش کے بعدایک طویل عرصے تک چلنے والی سیاسی لہر کو جنم دیا ۔اس نے فرانس اور سپین میں بڑے اور تاریخی موقعوں کو جنم دیا۔جبکہ اسی نے ہی جرمنی میں سیاہ نازی جرمنی کے ردانقلاب کے بھی اسباب پیدا کئے ۔اور اسی کی کوکھ سے ہی دوسری عالمی جنگ بھی پھوٹی تھی۔ اس ساری کیفیت کے نتائج و عواقب کا جہاں تک تعلق ہے اس کا سارے کا سارا دارومدار اور جوابدہی کی ذمہ داری محنت کش طبقے کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔اور یہی ایک وجہ ہی اس بات کا انتہائی سنجیدہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم سب اس عہد کا مکمل ادارک سے مطالعہ کریں ،کیونکہ ہم بھی معیشت اور سیاست کے حوالے سے ایک پرپیچ اور پر انتشار عہد میں قدم رکھ چکے ہیں۔
.. . . . . . .بربادیوں کے جہاں میں”امن،، کے ”انعام