Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

اجارہ دارانہ سرمایہ داری ۔ مری تعمیر میں مضمر ہے صورت خرابی

    اجارہ دارانہ سرمایہ داری ۔ مری تعمیر میں مضمر ہے صورت خرابی
ول روشے ۔ ترجمہ ۔ اسدپتافی
چنگاری ڈاٹ کام ،28.02.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم ڈائنوسارزکے دور میں زندہ رہ رہے ہیں ۔ اور وہ بھی ایسے کہ جو کرہ ارض پر سب کچھ روندتے کچلتے اجاڑتے ہوئے ، ادھر سے ادھر، اچھلتی کودتی پھر رہی ہیں اور جن کو نہ کوئی روکنے والا ہے نہ ہی پوچھنے والا۔ بلائیں ہیں جو ہر طرف منڈلاتی پھر رہی ہیں اورسب کچھ ہڑپ کرتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم کسی قبل از تاریخ کے دور کی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ آج کی اکیسویں صدی کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بلائیں اور کوئی نہیں ہیں بلکہ عالمی اجارہ دارسرمایہ دار کمپنیاں ہیں۔ سرمائے کے ماہرین نے جس معاشی توازن کی پیشن گوئی کی تھی اور جس کی توقعات کا اظہار کیا تھا ، اس کا دوردور تک نام ونشان تک نظرنہیںآرہاہے۔ ہر چندکہ صنعت کاری اپنے آپ کو کم ترقی یافتہ ملکوں تک پھیلا چکی ہے ۔ لیکن صنعت کا یہ پھیلاؤ پھر انہی عالمگیر کمپنیوں اور کارپوریشنوں کے مرتب کردہ اور طے کردہ حدودوقیود کے اندر اور مطابق ہی ہورہاہے ۔ ہم نوآبادیاتی نظام کی جکڑ بندیوں سے نکل کر اب عالمگیر رکارپوریشنوں کے تسلط و غلبے کے عہد میں سانس لے رہے ہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی اشیاء فروخت کرنے والی کمپنی ’’وال مارٹ‘کی آمدنی میں پچھلے سال چار سو پانچ بلین ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ جس سے آپ سارے کا سارا بنگلہ دیش خرید سکتے ہیں۔اس کمپنی کے دنیا بھر میں سات ہزار پانچ سو سٹورہیں جبکہ بیس لاکھ کے قریب ملازمین اس سے وابستہ ہیں ۔اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی غذائی اجارہ داری ’’کارگل‘‘ کی معیشت دنیا بھر کے دوتہائی ملکوں کی مجموعی معیشت سے زیادہ کی حامل ہے۔ حالیہ معاشی بحران نے چند اداروں کو اپنا شکار کیا ہے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق مالیاتی شعبے سے ہے۔ان میں خاص طورپر’’لہمین برادرز‘‘ قابل ذکر ہے ۔مگر اس بحران اور پریشانی کے عالم میں بھی بڑی کمپنیوں نے اپنی اجارہ داری اورچوہدراہٹ کو مزید بڑھانے کا وطیرہ ترک نہیں کیا۔بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو اسی ذوق وشوق سے نگلنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ٹی موبائل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اورنج کمپنی میں مدغم ہورہی ہے ،یوں یہ برطانیہ کی سب سے بڑی موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنی بن جائے گی اور سنتیس فیصدمارکیٹ پر اس کا تسلط ہو جائے گا۔جاپان کی کمپنی پیناسونک نے سانیو کو خرید لیاہے،اس سودے میں سانیو کو صرف یہ استحقاق دیاگیا ہے کہ وہ ری چارج ہونے والی بیٹریاں ہی مارکیٹ میں لاسکے گی وہ بھی سنتیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ ادھر امریکہ کی ادویات ساز کمپنی ’’فائزر‘‘ نے ایک دوسری بڑی کمپنی ’’ویتھ‘‘کو آڑسٹھ بلین ڈالرز کی خطیر رقم سے خرید لیا ہے اور یوں دنیا کی سب سے بڑی دواساز کمپنی اب اور بھی بڑی ہو گئی ہے۔جریدے ٹائمز نے امیروں کی جو فہرست شائع کی ہے اس کے مطابق، دو ہزار آٹھ میں صرف برطانیہ میں ہی ، وہاں کی امیرترین دوسوکمپنیوں کی مجموعی مالیت میں ،پچھلے دس سالوں کے دوران،شانداربڑھوتری ہوئی اور یہ چھیاسٹھ بلین پونڈزسے بڑھ کر دو سو اسی بلین پونڈز تک پہنچ گئی ہے۔ اس بڑھوتری نے برطانیہ میں امیروں کی امارت اور ان کی تعداد میں حیران کن اضافہ کیا ہے۔برطانیہ کے پچاس امیرترین افرادکی مجموعی دولت چار سو پچاس بلین پونڈز کو پہنچ چکی ہے۔یہ پچھلے سال سے چھبیس فیصدزیاد ہ ہے ۔جبکہ دنیا کے پچاس امیرترین افراد کی مجموعی دولت سات سو بیس بلین پونڈزہو چکی ہے جو کہ پچھلے سال سے بائیس فیصد زیادہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابتدائی سرمایہ دارانہ نظام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر سرمایہ دارانہ نظام ہمیشہ ایسے نہیں رہا۔ آٹھارہ سو کی ساری صدی میں یہ چند ایک خاندانوں کی ملکیت چھوٹی چھوٹی فرموں کا حامل اور ان پر مشتمل ہواکرتاتھا۔ آٹھارہ سو تیس میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی Cyfarthaآئرن کمپنی تھی جس کی لگ بھگ لاگت دو ملین ڈالرزتھی جبکہ اس میں پانچ ہزار افرادکام کرتے تھے۔ ایک سو سال کے بعد دنیا کی سب سے بڑی کمپنی یو ایس سٹیل ہوچکی تھی، جس کے اثاثوں کی مالیت تقریباً دو اعشاریہ تین بلین ڈالرز اور جس میں کام کرنے والوں کی تعداد پچیس لاکھ تھی۔آج دنیا کی سب سے بڑی کمپنی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ’’شیل‘‘(Royal Dutch Shel)ہے۔ جس کی پچھلے سال تک کے اثاثوں کی مالیت حیران کن حد تک چار سو آٹھاون بلین ڈالرز تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس وقت زیادہ تر صنعتوں پر محض چند ایک اجارہ داریوں کاغلبہ ہے۔ ماہرین معیشت انہیں 145oligopolies146 قراردیتے ہیں جبکہ ہم انہیں اس لئے اجارہ داری کہتے ہیں کہ انہوں نے مجموعی طور پر اور اجتماعی طور پر معیشت کوا پنے تسلط تلے رکھاہواہوتا ہے۔ انیس سو آڑتالیس میں،یہاں برطانیہ میں سو بڑی پیداواری کمپنیاں کل پیداوار کا سنتالیس فیصدپیدا کرتی تھیں ۔ انیس سو آڑسٹھ میں یہ شرح اناسٹھ تک بڑھ چکی تھی۔ اور آج یہ شرح پچاسی فیصد تک بڑھ چکی ہے ۔یوں ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح دولت اور طاقت اپنا ارکاز کرتی ہیں اور کر چکی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صحت مند مگر بے رحم اور جان لیوا مقابلہ بازی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوں جوں چھوٹی چھوٹی کمپنیاں مقابلے پر اترتی ہیں تو اس کیلئے انہیں منڈی میں قدم رکھنا پڑتاہے۔جتنا جتنا ان کمپنیوں کا حجم بڑاہوتا جاتا ہے،اتنا اتنا ہی ان کا اشیا کی پیداواراور سروسزکی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتاہے۔پھر یہ کمپنیاں وسیع پیداوار کے حصول کیلئے درکار ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگاتی ہیں۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مدمقابل کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ سستی اشیا منڈی میں فراہم کر سکیں ۔ وہ انتہائی سستے داموں اور بہت بھاری تعداد میں خام مال خریدتی ہیں ۔ وہ اپنے کام کرنے والوں میں مہارت کو مستحکم کرتی ہیں ۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ جملہ حقوق محفوظ اوراپنی پیداواری اشیا کوpatentکراتی ہیں ۔ اسے مقابلہ بازی کی معیشت کہا جاتاہے ۔ کمپنی جتنی بڑی ہوتی چلی جائے گی اس کی مالیت اور اثاثوں میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتاچلاجاتاہے ۔ چھوٹی اور کمزور کمپنیاں مقابلے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ فورڈ موٹرز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں توصرف کاریں بنانے کا ایک پلانٹ ہی آپ کو پانچ سو ملین ڈالرزمیں پڑ جائے گا۔ جب منڈی کے دوبڑے کاروبار آپس میں ضم اورمدغم (merger)ہوتے ہیں تو اس سے ان کی مقابلے اور تسلط کی قوت اور برتری میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔اس سے دوسری کمپنیوں کو بھی مجبوراً آپس میں ضم اور مدغم ہوناپڑجاتاہے تاکہ مقابلے کی صلاحیت اور استعداد کو حاصل اور قائم کیاجاسکے۔ یوں یہ صورتحال ارتکاز کی کیفیت کو اور بھی شدید کردیتی ہے۔اجارہ داریاں اپنے مدمقابل کمپنیوں کو خریدنا شروع کر دیتی ہیں ۔دنیا کے دوسرے بڑے میڈیا گروپRupert Murdoch146s News Corp(جسے عام طور پرشیطانوں کی سلطنت قرار دیا جاتا ہے)نےFloorgraphicsکمپنی کو خرید لیاہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمپنی صرف اس لئے خریدی گئی کہ اس نے دنیا کی دوسری بڑی اجارہ داری کے خلاف مقابلے اور مسابقت کے قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے کا مقدمہ دائرکیاہواتھا۔کسی مقدمے کو جیتنے کا یہ بھی ایک نیا انداز ہے۔صرف برطانیہ میں ہی دو ہزار سات کی دوسری سہ ماہی کے اندرکمپنیوں نے ایک دوسرے کو خریدنے اور آپس میں ضم ہونے کیلئے نو اعشاریہ پانچ بلین پونڈزخرچ کرڈالے۔ جبکہ برطانیہ سے باہراس دوران انضمام وادغام پرمزید اکاون بلین پونڈز خرچ کئے گئے۔ قیمتوں کا تعین سبھی اجارہ داریاں ایک سبق سیکھ گئی ہیں کہ ایک دوسرے سے مقابلے میں قیمتوں میں کمی کا رحجان ہر ایک کیلئے تباہ کن ثابت ہوتاہے۔چنانچہ اس بیش قیمت تجربے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان بڑی کمپنیوں نے آپس میں’’تعاون باہمی‘‘کا معاہدہ کرلیاہواہے۔اس معاہدے کی روشنی میں قیمتوں کو منڈی کے مہان دیوتاؤں کی منشاومرضی سے ممکنہ بلند سے بلند سطح پر رکھا جاتاہے۔مسابقت کی دوڑ میں شامل کارپوریشنیں قیمتوں کا تعین اپنے قبضہ قدرت میں رکھے رہتی ہیں اور یوں سبھی کو انہی کے دائرے میں ہی گھومنا پڑتااور انہی کی حدود ہی میں پابند رہناپڑتاہے۔مگر اس سب کے باوجود کمپنیوں کے مابین مقابلہ بازی اور پچھاڑنے کی نفسیات پورے زورسے جاری ہے۔مگر جتنی مقابلے کی شدت موجود ہے اتنی ہی مقابلے سے بچنے کی بھی ہے۔ان بڑی کمپنیوں کی مقابلے بازی اور اکھاڑ پچھاڑ کی عادت قیمتوں سے توبچی ہوئی ہے لیکن اشتہاربازیوں اور منڈیوں کے حصول اور ان پر غلبے کے حوالے سے مقابلہ بازی نہ صرف قائم ودائم ہے بلکہ دن دوگنی ترقی کر رہی ہے ۔کمپنیاں اب بہت ہی بڑی اور بھاری رقوم پیداواری اشیا کی قدرواہمیت بلکہ برتری کوثابت کرنے پر خرچ کر رہی ہیں ۔تاکہ وہ خریداروں کو یہ باور کراسکیں کہ ان کی پروڈکٹ دوسری کمپنی کی پروڈکٹ سے کہیں زیادہ بہتروبرتر ہے۔مثال کے طورپر سرف سے ایریل یا پھر ہونڈا سے یاماہا بہترہوتا ہے۔منڈی سے مستفید ہونے والاکوئی بھی صارف سرمایہ داری کی ابتدا سے آج کم ترین سطح پر مستفید ہورہاہے۔محض اشتہار ہی ہماری صارفیت کا رنگ روپ اور مزاج متعین کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ منافعوں کیلئے مقابلے بازی کا مطلب ومقصد یہی ہوتا ہے کہ قیمتوں کی جنگ کسی نہ کسی وقت چھڑ سکتی ہے۔اور یہ جنگ کبھی کبھار ورکروں کی قیمت پر بھی لڑی جاتی ہے۔مثال کے طورپر دو کمپنیاں ہیں ؛Tescoجس کامنڈی کے تیس فیصد جبکہ دوسریAsdaجس کا منڈی کے سترہ فیصد حصے پر قبضہ وکنٹرول ہے ، کے بارے ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے جو کہ ان کی(banana war)’’کیلوں کی جنگ ‘‘کے حوالے سے ہے۔ اپنے اپنے گاہکوں کو متاثر کرنے اور ان کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے انہوں نے بار بار اپنی قیمتوں کواوپر نیچے کیاہے۔ تاریخ میں ہمیں اس قسم کی کئی تلخ مثالیں مل جاتی ہیں۔ دو ہزار دو میںAsdaنے ایک عالمگیر معاہدے کی روشنی میں کیلوں کی اس جنگ کے حوالے سےDel Monteنامی کمپنی کو ادائیگی کی۔ اس ادائیگی کیلئے قیمت کا تعین کرنے کا دستاویزی فریضہ صاف ستھری تجارت کرنے والے گروپوں نے کیاتھا۔Del Monteنے انیس سو ننانویں میں کوسٹاریکا میں اپنے ایک بڑے پلانٹ پر کام کرنے والے سبھی چار ہزار تین سو ورکروں کو کام سے فارغ کردیا(اس کمپنی کی زیادہ تر سپلائی یہاں برطانیہ میں ہوتی ہے)۔ مگر کچھ ہی عرصے کے بعد ہی ان سبھی ملازمین کو دوبارہ کام پر رکھ لیا گیا لیکن ملازمت پر یہ بحالی پہلے سے پچاس فیصد کم اجرتوں ،پہلے سے زیادہ اوقات کار کی شرائط پر کی گئی ۔ محض چند ایک مراعات کاالبتہ ان کو وعدہ کیا گیامگروہ بھی انتہائی معمولی نوعیت کی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اجارہ داریاں صرف ان سے ہی قیمت نہیں وصول کرتی ہیں جن کو بیچتی ہیں بلکہ ان کو بھی نہیں چھوڑتیں جن سے خریدتی ہیں۔اس کے تباہ کن اثرات برطانوی کاشتکاروں پر مرتب ہوئے ہیں ۔انہیں انتہائی برے طورپر اپنی پیداوارکو بڑی سپر مارکیٹوں میں انتہائی کم ترین نرخوں پر فراہم کرناپڑرہاہے۔رائے عامہ کے ادارےDefraکے مطابق اس وقت ترنسٹھ فیصدبرطانوی کاشتکار اپنی پیداوار سے مناسب منافع حاصل کرنے سے محروم ہو چکے ہیں۔ پچھلے دس سالوں کے دوران سترہ ہزار ساٹھ ڈیری فارمرز اپنا کام چھوڑ چکے ہیں جبکہ فی ہفتہ چودہ کاشتکار،کاشتکاری سے الگ ہوتے جارہے ہیں ۔ صنعتوں کے چند ایک شعبے ایسے بھی ہیں جن کے مالکان آپس میں انتہائی خفیہ ملتے ہیں تاکہ قیمتوں پر کوئی موافقت و ہم آہنگی پیداکی جائے۔انہیں ’’کارٹل‘‘ کہاجاتاہے۔تکنیکی اعتبار سے یہ غیر قانونی ہوتے ہیں۔لیکن پھر ایسے معاملات میں قانون اکثر بانجھ پن کا شکار ہو جایاکرتا ہے ۔ تیل پیداکرنے والے ملکوں کی تنظیم Organization of Petroleum-Exporting Countries ’’ اوپیک‘‘ اس حوالے سے جیتی جاگتی مثال ہے ۔ اس کے ممبران کا ’’کارٹل‘‘ اکثر ملتا رہتا ہے اور طے کرتارہتا ہے کہ کس کس ممبر ملک نے کتنا تیل پیدا کرنا اور کس قیمت پر بیچنا ہے۔مقصد قیمتوں اور منافعوں کو بلند رکھنا ہو تا ہے۔ دو ہزار چار میں جبکہ طلب میں اضافہ ہوتا چلا جارہاتھا،تب برطانیہ کی انرجی سپلائی کرنے والی بڑی کمپنیوں نے رسد کو کم سے کم تر کرنا شروع کردیا۔اور یہ سب کچھ سپلائی کے معاہدوں میں موجود’’ ٹیکنیکل شقوں‘‘کے نام پر کیاگیا۔جس کا نتیجہ قیمتوں میں اضافے کی شکل میں نکلا اور جو یہاں برطانیہ کے عام صارفین کو اداکرناپڑیں۔یہ اضافہ ایک اعشاریہ پانچ بلین پونڈز کا تھا۔ الیکٹرانکس کا سامان بنانے والے اداروں ہٹاچی، ایل جی، چنگ وہااورشارپ بھی ایسی ہی کارٹیل وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ واردات ایل سی ڈی سکرینوں کی قیمتوں کو فکس کرنے اور بلند رکھنے کے حوالے سے کی گئی۔ اس کے علاوہ ایک اور مشہورزمانہ کارٹل وارداتInternational Coffee Agreement(ICA)انٹرنیشنل کافی اگریمنٹ کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ ان بھاری بھرکم قیمتوں نے خدمات کے شعبوں کو بری طرح متاثر کیاہے۔ان میں نیشنل ہیلتھ سروس قابل ذکر ہے۔صاف ستھری تجارت کے نام پر قائم ادارے کی دو ہزار پانچ کی رپورٹ کے مطابق بڑے ادویات ساز ادارے نیشنل ہیلتھ سروس سے مقررکردہ چارجز سے زیادہ کی وصولی کے مرتکب ہورہے ہیں۔موثر علاج کے حوالے سے عمومی طورپر یہ وصولی دس گنا سے زیادہ کی جارہی ہے۔یوں نیشنل ہیلتھ سروس کے شعبے سے لاکھوں کروڑوں پونڈزکی زائد وصولی اینٹھی جا رہی ہے۔ دو ہزار دو میں نیشنل ہیلتھ سروس کو سو ملین پونڈز کا اس وقت خسارہ اٹھانا پڑگیا جب السر کی دواranitidineبنانے والی دو بڑی کمپنیوں نے کارٹل کرتے ہوئے اس کی قیمت میں فوری اضافہ کردیا۔ دو ہزار آٹھ میں ادویات ساز کمپنیاںSerious Fraud Officeکی طرف سے اینٹی بائیوٹک اور اینٹی کلاٹنگ ادویات کے حوالے سے نیشنل ہیلتھ سروس کو اوورچارجنگ کرنے کے جرم کی مرتکب پائی گئیں۔یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہGlaxoSmithKlineتن تنہا،سوائن فلو وائرس کی ویکسین بیچ کر اربوں کھربوں کی کمائی کر لے گی۔یہ کمپنی اپنی اس ویکسین کو اس کی لاگت پر آنے والے اخراجات سے چھ گنا زیادہ قیمت پر فروخت کررہی ہے۔کمپنی نے برطانوی حکومت کو ساٹھ ملین جبکہ باقی یورپ اور امریکہ کومزید سو ملین خوراکیں فروخت کی ہیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکاری درندے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چند عالمی اجارہ داریاں تو اپنے مدمقابل کا ستیا ناس کرنے کیلئے انتہائی بے رحم طور طریقے بھی اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتی ہیں ۔امریکہ کی کافی تیارکرنے والی فرمStarbucksجس قسم کے طور طریقے استعمال کرتی ہے اسے ’’قتل عام ‘‘کہا جاتاہے۔وہ ایک ہی علاقے میں اپنے کئی ایک ریستوران کھول دیتی ہے اور یوں کسی اور کو کام اور کاروبارکرنے سے بھگا دیتی ہے۔بلاشبہ اس پر بہت بڑی رقم خرچ کرناپڑتی ہے مگر پیسوں کی تو اسے پرواہ ہی نہیں ہے۔پچھلے سال اس کمپنی نے کوئی ایک سو اکاسی ملین ڈالرز کا منافع کمایاہے۔یہ لوگ ایک حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں جسے ’’شکاری رئیل اسٹیٹ‘‘کہا جاتاہے،کسی علاقے میں بھی یہ مروجہ کرایوں سے بھی کہیں زیادہ کرائے دیتے ہیں تاکہ مدمقابل کو دم دباکر بھاگنے پر مجبور کردیاجائے۔امریکی شہر سیاٹل میںEspresso Vivaceکے مالک ڈیوڈشومرنے بتایا ہے کہ Starbucksوالوں نے اس کی کام کی جگہ کے مالکان سے رابطہ کیا اور اس کے کرائے سے دوگنا کرائے کی پیشکش کی تاکہ اسی عمارت میں ہی اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔اس کمپنی کے دنیا بھر میں سولہ ہزار چھ سو ریستوران ہیں ۔صرف لندن کے بینک آف انگلینڈ کی مرکزی عمارت والے علاقے کے تین میلوں کے اندر اندرہی اس کے ایک سو پندرہ ریستوران موجود ہیں ۔ اور اسے دنیا کی سب سے بڑی مرتکز تجارت سمجھا جاتاہے۔صرف برطانیہ میں کافی شاپوں کا تیس فیصدکاروبار اس کمپنی کے تصرف میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ مالیاتی سرمایہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مالیاتی شعبے کی اجارہ داری اس وقت عالمی معیشت پر نہ صرف غالب ہو چکی ہے بلکہ اپنے شدید اثرات بھی مرتب کر رہی ہے۔ انیس سو پچاسی کے آخر تک امریکہ میں بینکوں کی کل تعداد آٹھارہ ہزارتھی جو کہ دو ہزار سات تک سکڑ کر پچاسی ہزار چوتیس رہ چکی تھی۔اور اس میں اب بھی کمی واقع ہوتی چلی آرہی ہے۔کچھ ہی عرصہ پہلے انیس سو نوئے تک امریکہ کے دس بڑے مالیاتی ادارے مجموعی مالیاتی اثاثوں کے محض دس فیصد کے مالک تھے جبکہ اس وقت یہ پچاس فیصدکے مالک بن چکے ہیں ۔امریکہ کے سب سے بڑے پانچ بینکوں کے مالیاتی اثاثے نوئے کھرب ڈالرز ہوچکے ہیں ۔(Monthly Review Oct 2009) معروف مالیاتی تجزیہ نگارہنری کافمین کے مطابق’’صرف ایک ہی نسل میں ہمارامالیاتی نظام یکسر تبدیل ہو کر رہ گیاہے۔سارانظام چند انتہائی بالادست قسم کی فرموں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوچکاہے۔جونہی حالیہ بحران کے بادل چھٹیں گے تو یہ مالیاتی دیوقامت ادارے انگڑائی لے کر اٹھیں گے اورمزیدپیٹ بھرنا شروع کر دیں گے‘‘۔ آج جس عہد میں ہم جی رہے ہیں اس میں دولت اور طاقت جس تیزی اور جس شدت سے مرتکزہوئے اور ہوتے چلے جارہے ہیں ،ساری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔جیسا کہ ہم نے اپنے اس مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا اور ایک دو دن میں نہیں ہوا۔ابتدائی سرمایہ دارانہ نظام کا اجارہ داریت کو جنم دینے اور پھر اسے پروان چڑھانے کا رحجان اس نظام کا موروثی طرز ہے۔منڈی کی معیشت کا ایک نظام جو نجی ملکیت اور مقابلے بازی کی صفات کا حامل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافعوں کو ممکن بنایاجاسکے۔مگر یہ صرف معاشی رحجانات ہی نہیں ہواکرتے جوان اجارہ داریوں کی خصلتوں اور خباثتوں کو ظاہر کرتے ہیں ،بلکہ سیاست بھی ایک انتہائی اہم عنصر ہے جو کہ پارلیمنٹ اور ریاست کے ذریعے ان بڑی اجارہ داریوں کے غلبے اور بربریت کو قائم ودائم اور جاری وساری رکھنے کا گھناؤنا کردار اداکرتی ہے۔مگر یہ ایک اور الگ موضوع ہے اور جوکسی اورالگ مضمون کا متقاضی ہے۔
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved