معظم کاظمی،03.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کی موجودہ رد انقلابی اور رجعتی لہر نے بہت سارے روائتی دانشوروں اور مڈل کلاس کے ترقی پسندوں میں انقلاب کے متعلق مایوسی اور نا امیدی پیدا کی ہے جس سے عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بہت سے دانشور اور اچھے خاصے سمجھدار لوگ بھی آج یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں انقلاب نہیں آسکتا اور اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ انقلاب کے بغیر کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا ۔ یعنی یہ انقلاب کی ضرورت کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن اس کے برپا ہونے پر مایوس اور ناامید ہیں ۔ جس سے یہ اپنی کم علمی، خسی پن ، تنگ نظری اور ناتوانی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ جبکہ انقلابی سائنس کا ہر طالب علم یہ بخوبی جانتا ہے کہ انقلابات اور رد انقلابات ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور عوامی تحریکوں کی عدم موجودگی میں رد انقلابی قوتیں منظر عام پر آ جاتیں ہیں یعنی یہ سماجی خلا کو پر کرتیں ہیں کیونکہ قدرت کا یہ اٹل قانوں ہے کہ یہ اپنے اندر خلا نہیں رکھتی جس وجہ سے اسے کسی نہ کسی نے تو پر کرنا ہی ہوتا ہے اس کے باوجود کے یہ رجعتی قوتیں اپنی کوئی خالص سماجی بنیادیں نہیں رکھتیں بلکہ نہایت مصنوعی طریقے سے یہ اپنے آپ کو ابھرتی ہیں یا پھر حکمرانوں کے کچھ حصے آپنے مفادات کے لیے انہیں استعمال کرتے ہیں اور جب عوامی تحریکوں کے طوفان امڈتے ہیں تو یہ کسی سوکھے کھاس پھوس کی طرح اڑ جاتیں ہیں اس کو ہم نہیں بلکہ تاریخ ثابت کرتی ہے۔ اور اب وہ وقت دور نہیں جب اسے پاکستان میں ایک بار پھر ثابت کرئے گئی ۔ جب عوامی اور محنت کشوں کی تحریکوں کا میدان لگے گا تب اصل فیصلہ ہوگا فتح کس کی ہے سوشلسٹ انقلاب کی یا پھربربریت کی۔ اور ویسے بھی موجودہ سرمایہ درانہ ریاست اور حکمران کھبی بھی اپنی طبقاتی دشمن قوتوں کو نمایاں نہیں کریں گئے۔ یہ ان کے حق میں ہے کہ یہ انقلابی قوتوں کو دبا کر رد انقلابی طاقتوں کو ابھاریں جو ان کا ہر حال میں تحفظ اور دفاع کرتیں ہیں ۔ حالانکہ آج پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک پہلے سے کہیں مضبوط اور طاقت ور ہو رہی ہے یہ مزدروں، نوجوانوں ، عورتوں ، کسانوں ، اور سیاسی میدان میں موجودہ نظام کے خلاف صف آرا ہے ۔ سوشلسٹ انقلاب کی بڑھتی اہمیت اور افادیت کے تحت ہی آج تمام میڈیا بھی سیاسی اور سماجی مسائل پر بائیں بازو کی نقطہ نظر پیش کرنے پر مجبور ہے۔ جس کا ثبوت تمام چھوٹے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر آئی ایم ٹی پاکستان کے رہنما لال خان اور عالمی رہنما ایلن وڈ کے انٹریو اور مضامیں ہیں۔ اگر آپ یو ٹیوب پر لال خان یا ایلن وڈ دیں تو آپ بھی یہ دیکھ سکتے ہیں۔ انسانی اور سماجی تاریخ میں جب بھی کوئی نظام ناکارہ اور فرسودہ ہو جاتا ہے تو انقلاب ایک ٹھوس سچ اور لازمی بن جاتا ہے۔ جس کے بغیر جمود شدہ سماج کو کھبی بھی ارتقائی عمل میں داخل نہیں کیا جاسکتا اور اس کی حالت زار کو موجودہ نظام میں رہتے ہوئے کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ۔ سب کچھ یا ہر قسم کی اصلا حات کرنے کے باوجود بھی اسے بنیادی طور پر نہیں بدلا جا سکتا بلکہ اس میں دیری سے یہ ہر روز پہلے سے زیادہ بد بو دار ، بھیانک اور بے رحم ہوتا چلا جاتا ہے یعنی اس کی بہتری کے لیے کیا جانے والا ہر اقدام اس میں انتشار اور پہلے سے زیادہ بحران کا باعث بنتا ہے سماجی سائنس کے مطابق اب دلیل اپنی عدم دلیل میں تبدیل ہو چکی ہے اور انقلاب ناگزیز ہے۔ جو اصلا حات نظام میں کبھی ترقی کا باعث تھیں اب اس کے زوال کا باعث ہیں کیونکہ یہ نظام اپنے اندر ترقی کی تمام صلاحیتیں استعمال کر چکا ہے جس سے یہ اب مزید سماجی بہتری کے قابل نہیں رہا اس کی تبدیلی لازمی امر بن چکی ہے ۔ اسی لیے پاکستان میں بھی اب ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نظام کو جیسے بھی چلا لیا جائے اس میں حالات برے سے برے ہی ہوں گئے اور اچھائی کی تمام امیدوں دم توڑ گئی ہیں ۔ جس سے آج ہر انسان مستقبل سے مکمل مایوس اور نا امید ہے جس سے ملک میں بے چینی ، خلفشار ، بے اطمنانی ، جرائم اور تباہ و بربادی بڑھ رہی ہے ۔ پاکستان کے تمام عوام کو شعوری طور پر معلوم ہے کہ ان کو موجودہ نظام نہیں چاہیے جس نے ہر انسان کا جینا محال کر دیا ہے یعنی وہ شعوری طور پر تبدیلی یا انقلاب چاہتے ہیں لیکن کون سا انقلاب یا تبدیلی یہ ابھی ان کے شعور کا حصہ نہیں بنا۔ لیکن انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ایسا انقلاب چاہتے ہیں جس میں وہ تمام کچھ نہ ہو جو آج ہے یعنی عوام لاشعوری طور پر سوشلزم چاہتے ہیں ۔ انقلابی پارٹی اور مارکسسٹوں کا یہی فریضہ ہے کہ وہ سوشلسٹ انقلاب کو عوام کی شعوری سطح پر لائیں اور انہیں اس کا حصہ بنائیں جس کے بغیر انکی حالت کبھی تبدیل نہیں ہوگئی۔ انقلاب کے ذریعے یہ اپنے مالک خود بنے جو انکی نجات کا واحد راستہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ حقیقی سوشلسٹوں کو یہ معلوم ہے کہ انقلاب کو صرف اور صرف سماجی مارکسی سائنس کے تحت ہی سمجھا، دیکھا اور برپا کیا جا سکتا ہے کیونکہ انقلاب نہ تو کوضے میں بند جن ہے اور نہ ہی پٹاری میں پڑاسانپ جس کو بہت سے غیر مارکسی اور غیر حقیقت پسند بیان کرتے ہیں ۔ سماج کی جدلیاتی سائنس یہ کہتی کہ انقلابات تاریخ کے غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں جو سماج کو ترقی اور ارتقا کی نئی اور جدید ترین منازل سے ہم کنار کرتے ہوئے سماجی ارتقا کے دھارے کو آگے بڑھتے ہیں اور یہ سماجی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں اور اس لیے یہ آج تک کی انسانی تاریخ میں لازمی رہے ہیں۔ جہاں تمام انسانی تاریخ طبقاتی جدجہد کی تاریخ ہے وہاں وہ انقلابات کی بھی تاریخ ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ انقلابات کبھی خود با خود نہیں آتے بلکہ انکو طبقاتی طاقت سے کیا جاتا ہے کیونکہ نظام سے وابسطہ طبقہ سماج کو تباہ و برباد تو کر دے گا لیکن کبھی بھی تاریخ میں اس حکمران طبقات نے اپنی مراعات اور عیاشیوں سے رضاکارانہ دست برادر ی اختیار نہیں کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔انقلابی تحریک کے بارے میں یہ ایک بڑا سچ ہے کہ عوامی تحریک اس پانی کی ماند ہے جو سماجی مسائل کی آگ پر پڑا گرم ہو رہا ہے۔ مسائل کی شدت اس پانی کے مالیکول کی حرکت کو مسلسل تیز کر رہی ہے اور مسائل کی شدت سے ہونے والا اس عوامی تحریک میں جاری عمل یا آگ سے پانی میں عمل بظاہر عام حالات میں زیادہ واضح اور نمایاں نہیں ہوتا ۔ لیکن جون ہی اس درجہ حرارت کا نقطہ سو آتا ہے تو پانی پھاپ بن جاتا ہے اس میں جاری مقداری تبدیلی قدری یا معیاری تبدیلی بن جاتی ہے جب سویا ہوا سمندر ایک دم ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے جب ذلتوں کے مارے لوگ بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ جب غلام اپنے مالکوں کا گریبان پکڑ لیتے نہیں ۔ جب مردے زندہ ہو جاتے ہیں یہی تاریخ میں غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں جب راولپنڈی کے ایک طالب علم کی موت انقلابی تحریک کو، اس کے درجہ حرارت کو سویں نقطے تک لے جاتی ہے اور عوام اپنے تمام دائرے ، حدیں، قانون اور ہر ضابط توڑ دیتی ہے اور پاکستان میں انیس سو آٹھاسٹھ اور انہتر کا انقلاب پھٹ پڑتاہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عوام کو بے حس اور مردہ کہنے والے بے نظیر کے قتل پر ایک بار پھر اپنے دانتوں میں انگلیاں لے لیتے ہیں۔ انقلاب کو غلط اور ناممکن کہنے والے خوف کے مارے اپنے بلوں میں چھپ جاتے ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب آج بھی اتناہی سچ اور ضروری ہے جتنا جاگیرداری سے سرمایہ داری کے ارتقا کے لیے ضروری اور لازمی تھا اب ہم پاکستان کے حالات کو سوشلسٹ انقلاب کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستانی حکمرانوں کی بداعنوانیوں اور جرائم کی لسٹ این آر او سپریم کورٹ کے ہاتھوں خوار ہو چکی ہے بے شک یہ لسٹ بہت معمولی اور چھوٹی ہے کیونکہ جو لسٹ عوام کے پاس ہے وہ بہت بڑی اور خطرناک ہے جس میں صرف چند افراد نہیں بلکہ بطور حکمرانوں کا پورا طبقہ ہے ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایہ داری کی اس مقدس گائے پارلیمنٹ کے تقدس کو کوئی اور نہیں بلکہ اس کے اپنے نگہبان ادارے خود پامال کر رہے ہیں پہلے اسی پارلیمنٹ نے جو مشرف کی تھی نے عدالتوں کی عزت واحترام کی خوب دھجیاں بکھرئیں ۔ اور اب عدالتوں کو حکمرانوں کی کمزور ی( انکی عوام میں اپنی طاقت کھو ناجانے اور ریاستی ٹوٹ پھوٹ سے)جو موقع ملا ہے وہ بھی یقیناًاس سے بھر پور فائدہ آٹھائیں گئے اور اپنی پارلیمنٹ کے ہاتھوں بے عزتی کابدلہ لینے اور اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے کی بھر پور کوشیش کریں گئے ۔ اس تمام سرکس میں فوج جو ریاست کا تیسرا بڑا ترین ادارہ ہے اس لیے اب تک باہر ہے کہ مشرف دور حکومت میں جو اس کی عوام میں رسوائی ہو چکی ہے وہ بہت گہری اور سنجیدہ ہے جو ابھی تک بحال نہیں ہوسکی بے شک پاکستان کی تمام تاریخ میں فوج کا بڑا خونی اور سفاک کردار رہا ہے۔ اس کے علاوہ معاشی بر بادی اور ریاستی اد اروں کے جارحارانہ تصادم اور امرایکی سامراج کی نامکمل حمائت اس بداعنوان ترین اور بے رحمانہ فوج کو شدیدچاہتے ہوئے بھی اپنے مالی ہوس آلود جذبات کی باز آوری کے لیے حکمرانی کی کرسی سے دور کیے ہوئے ہے ۔ یہ ایک الگ سوال ہے کب تک؟ اگر ہم حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا جو سب کو نظر بھی آرہا ہے کہ نہ صرف عدالتوں اور پارلیمنٹ میں تصادم ہے بلکہ تمام حکمران آپس میں اخباری بھائی چارئے اور صلح و صفائی کی منافقت کے باوجود اور پاکستانی ریاست کے تمام ادارے آپس میں دست و گریبان ہیں اس لیے اب این آر او کی زد میں آنے والے قرضے معاف کرانے والوں ، فیکٹریوں اور اپنے بیوپاروں کے ٹیکس نہ ادا کرنے والوں کی لسٹ چھاپ رہے ہیں ۔ پاک فوج اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے جبکہ اس کا اعلی اور اہم ترین ادارہ آئی ایس آئی ان دہشت گردوں کی سرپرستی اور رہنمائی کر رہا ہے یعنی آج فوج بھی اندرونی طور پر شدید بحران اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ موجودہ حکومت اور اپوزیشن یا موجودہ نظام اور ریاست سے وابسطہ مالیاتی مفادات کے حامل تمام افراد ، پارٹیوں اور انکی قیادتوں سمیت میڈیے کے پراپیگنڈے کے باوجود یہ پاک فوج کے انتشار کو چھپا نہیں سک رہے ۔ اپنے ہی ملک میں جنگ جو سوات کے بعد اب فاٹا میں جاری ہے انہیں ریاستی اور فوجی تضادات کو پھٹنے سے روکنے کے لیے ہے جو کل کا ایک جزو ہے ۔ لیکن اس جنگ سے یہ تضادات مزید گہرئے اور بھیانک ہو رہے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے فوجی افسران کی مراعات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور کسی پاکستان کی ریاستی تصادم کو کم کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ پاکستان کو امداد پر امداد دے رہے ہیں۔ اس جنگ سے فوجیوں میں بڑھتی مایوسی اور نفرت کو کم کرنے کے لیے انکی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور اور عدالتوں کا تماشا سر بازر سجا ہوا ہے۔ جس میں تمام روائتی سیاسی پارٹیاں اور انکی قیادتوں اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کے افسران اس بداعنوانی کی لسٹ میں سر فہرست ہیں جو ابھی نامکمل اور ناکافی ہے ۔ پاکستان کے آج منظر نامے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سرمایہ دارنہ ریاست کے محافظ اب خود اس کی پیٹھ میں خنجر چلا رہے ہیں کیونکہ آج یہ ریاست انکے استحصالی مالیاتی مفادات کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہی اس کی کمزوری اس کی تباہی بن چکی ہے اس خداداد مملکت کی معاشی بربادی نے ریاست اور اسکی سیاست کو تباہ کر دیا ہے اور اب وہ حکمران طبقات اوراپنے اداروں کو مضبوط اور منظم رکھنے میں یہ ریاست ناکام و نامراد ہے اور پاکستان کا آج کا منظر نامہ اسی کا اعکاس ہے یہ تمام حالات ایک تبدیلی کا پیش منظر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولادی میر ایلج الیاوف المعروف لینن نے انقلاب کی پیش بندی کے کے لیے چار سنہرے اصول واضح کئے تھے معروضی حالات میں ۔ پہلا ، حکمران طبقات اور ریاست کی ٹوٹ پھوٹ اور تضادات کھول کر منظر عام پر آجاتے ہیں ۔ دوسرا ، محنت کش طبقہ اپنے تجربات سے یہ جان لیتا ہے کہ موجودہ حالات میں اس کے لیے کوئی بہتری ممکن نہیں رہی اور اس کے خلاف ،مذاحمتوں سے اسکو اپنی باقابل تسخیر طاقت کا بھی احساس ہو چکا ہو جاتا ہے۔ تیسرا ، مڈل کلاس یا درمیانہ طبقہ بھی جو ہمیشہ بوژوا طبقے کی صف میں شامل ہونے کی کو شیش کر تا رہتا ہے وہ بھی مایوس ہو کر بوژوا کے صف آرا آجاتا ہے۔ چھوتھا عنصر جس کا تعلق داخلی عنصر سے ہے وہ ہے اس سماج میں حقیقی مارکسی انقلابی پارٹی کا وجود۔ لینن نے لکھا ہے کہ جب یہ چارروں عناصر کسی سماج میں متحد ہو جائیں تو انقلاب کے آثار روش ہو جاتے ہیں اور اس سوشلسٹ انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔ اگر ہم ان چار عناصر کے حوالے سے پاکستان کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس بار پاکستان میں کسی بھی انقلابی تحریک کے ابھرنے سے سوشلسٹ انقلاب بہت یقینی ہے ۔ پہلا پاکستان کے حکمران طبقات کی
لڑائی اور ریاستی اداروں کے تصادم کسی سے ڈھکے چھوپے نہیں ہیں ۔ صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور موجودہ تمام کابینہ کا بار بار اس کا ود کرنا کہ ریاست میں تصادم نہیں ہے اس چیز کا ثبوت ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ پاکستان کے محنت طبقے اور عوام نے کئی بار اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے ۔ انیس سو آٹھاسٹھ اور انہتر کی تحریک کے بعد اسی کی دہائی ، انیس سو چھیاسی میں ، اور حالیہ تاریخ میں بے نظر کے قتل کے بعد جب تمام عوام سڑکوں اور باز اروں میں آگئے تھے جس کے پیچھے انکے سلگتے معاشی اور سماجی مسائل کی جہنم تھی تب تمام ریاست اور اس کے ادارے انکو کنڑول کرنے میں ناکام اور بے بس تھے ریاست کی تمام طاقت ہوا میں معلق ہو چکی تھی اور تمام طاقت عوام اور محنت کش طبقے کے پاس تھی جو حکمرانوں کے ایوانوں سے نکل کر سڑکوں بازاروں میں بکھر گئی تھی ۔ حکمرانوں اور ریاست کے تمام اداروں سے نفرت ایک دم عود آئی تھی ۔ بینک۔ سرکاری دفاتر اور پارلیمنٹیں عوام کے غیص و غصے کا شکا ر تھیں ۔ اور عوام نے یہ ثابت کیا تھا کہ اصل طاقت ان کے پاس ہے جب سوشلزم سر چڑھا بول رہا تھا لیکن پی پی پی کی قیادت نے ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دیا ان کی جدوجہد سے غداری کی اور اس تبدیلی کے لیے تحریک کو سوگواری اور پھر الیکشن میں تحلیل کر کے سرمایہ دارانہ استحصالی جبر کو جاری رکھا اور اس میں حصہ دار بن گئے ۔ حکومت نے جب شروع میں بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا تو عوام نے ایک بار پھر بجلی کے بل سڑکوں اور شاہراوں پر مظاہرے کرتےء ہوئے پھاڑ دئیے اور انکی ادائیگی سے انکار کر دیا یہ بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ کی تحریک سول نافرمانی کی تحریک تھی جس نے اپنے اپنے علاقوں میں ڈنڈہ فورس بھی بنائی جو دن رات پہرہ دتیں تھیں تاکہ کوئی آکر ان کے کنکشن نا کاٹ دے جس سے حکومت کو مجبورا بجلی کے بلوں میں اضافہ واپس لینا پڑا ۔ یہ عوام میں اپنی طاقت پر اعتماد کا ہی اظہار تھا لیکن قیادت کی عدم موجودگی میں یہ خود کار تحریکیں کچھ عرصے کے لیے پیچھے چلی گئیں اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی یہ فطری عمل ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئیں اور نہ ہو سکتی ہیں کیونکہ نہ صرف مسائل قائم ہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ جو آنے والی
تحریکوں کا بارود ہیں ۔ موجودہ نظام میں مستقبل سے مایوسی نہ صرف محنت کش طبقے میں مضبوط ہو چکی ہے بلکہ مڈل کلاس میں بھی عود آئی ہے ۔ جس کا اظہار یہ سول سوسائٹی کے نام سے کر رہے ہیں میڈیا، صحافی ، دانشور تمام موجودہ نظام میں کسی قسم کی کوئی بھی ایک بہتری کی بھی امید نہیں رکھتے ۔ اب وہ بھی اس کی تبدیلی کے خواہیں ہیں ۔ آج یہ انقلاب کے تین معروضی حالات پاکستان کے افق پر نمایاں ہیں ۔ اور چوتھا جو داخلی عنصر ہے وہ بھی اب تعمیر ہو چکا ہے ۔ انٹر نیشنل مارکسی رجحان ، آئی ایم ٹی پاکستان جو آج مختلف ناموں اور عوامی پلیٹ فارموں سے اپنا انقلابی کام جاری کیے ہوئے ہیں جن میں ، بے روزگار نوجوان تحریک ، یوتھ فار انٹرنیشنل سوشلزم، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین ، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنیس فیڈریشن ، پیپلز سٹوڈنیس فیڈریشن ، سوات ، مالا کنڈ اور فاٹا میں انقلابی ریلیف کمیٹیاں ہیں ۔ آئی ایم ٹی میڈیے میں چنگاری ڈاٹ کام( الیکڑونیس میڈیا)، جریدہ طبقاتی جدوجہد (اردو)، جریدہ ایشین مارکسسٹ رویو(انگلش)، جریدہ مزدور مورچہ(ہندی)، میں کے علاوہ سو سے زیادہ انقلابی کتابیں چھپ چکی ہیں، یہ پاکستان ، ہندوستان اور ایک عالمی حقیقی سوشلسٹ انقلاب کا علم بلند کئے ہوئے ہیں ۔ آج یہ پاکستان اور پوری دنیا میں اتنی طاقت بن چکے ہیں کہ پاکستان کے مقدر کا فیصلہ ان کے بغیر اب ممکن نہیں رہا ۔ اور اگر ہم کچھ عرصے میں اپنی انقلابی قوتوں میں کچھ اور مزیداضافہ کر لیں تو پھر اس دھرتی میں ایک سرخ سویرے کو ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سچے جذبوں کی قسم جیت ہماری ہے ۔