معظم کاظمی،30.11.2009۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ جنگ میں سب سے پہلے جس چیز کا قتل ہوتا ہے وہ سچ ہے جسے ہمیں آج تلاش کرنا ہے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سوچنا ہے کہ ہمارے عوامی مسائل کو اس جنگ میں دبایا تو نہیں جا رہا جس میں چینی، آٹا، بجلی ، پانی، روزگار ، صحت، تعلیم اور دوسرے بنیادی انسانی مسائل شامل ہیں جن کے بغیر زند ہ نہیں رہا جاسکتا؟ ۔ مذہبی انتہا پسندی یا بنیاد پرستی کے خلاف لڑنے سے پہلے اور پاکستان میںآج کسی بھی امن کی خواہش سے پہلے جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی جماعتوں پر مکمل پانبد ی عائد کی جانی چاہیے اور ان کے تمام اثاثوں کو قومی ملکیت میں لیا جائے ۔ تمام مذہبی مدرسوں کو بھی قومی ملکیت میں لے کر ان کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کی جائے۔ کیونکہ آج پاکستانی ریاست کے تاریخی بحران کو ا نہوں نے اور خون خوار بنا دیا ہے ۔ جہاں ایک طرف ملائیت کی جنونیت کے آئے دن بم دھماکوں میں بے گناہ معصوم عوام کے خون کی بہتی ندیاں ہیں تو دوسری طرف ریاستی فوج کی سوات ، مالاکنڈ کے بعد فاٹا پر بربریت ہے ۔ ہر طرف خون بہہ رہا ہے ، آگ لگی ہے سب کچھ اجڑ رہا ہے ، ہر طرف بربادی پھیل چکی ہے جس کا شکار صرف اور صرف غریب عوام اور محنت کش طبقہ ہے جو پاکستان میں رہتا ہے اور انہوں نے یہیں رہنا ہے۔ وہ چاہیے پختون خواہ کا ہو، پنجاب کا ، بلوچستان کا یا سندھ کا ہو یا پھر سوات ، ملاکنڈ کے بعد اب فاٹا کا ہو، اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور ہو رہا ہے جبکہ اس عوام کے لیے پہلے ہی بے روزگاری ، غربت ، لوڈ شیڈنگ ، تعلیم ، چینی ، آٹا ، خوراک جیسے بنیادی مسائل کسی عظیم جہنم کے عذاب سے کم نہیں۔ جو آج حکمرانوں اور انہی کے پالتو پیلوں کی آپسی حکمرانی کی لڑائی میں بے گناہ عوام کو بے دردی سے ہر روز قتل کیا جا رہا ہے ۔ آج ہمیں جس سوال کا جواب چاہیے وہ یہ ہے کہ اس جنگ میں کون کس کو فتح کر رہا ہے ؟ پاکستان کی فوج اپنے ہی ملک کو فتح کرنا چاہتی ہے یا اسلامی بنیاد پرستی، مسلمانوں کو یا اسلام کو فتح کرنے کے لیے، ان دونوں نے یہ آگ ، خون اور انسانی بربادی کا ہولناک کھیل شروع کر رکھا ہے ۔ دوسرا سوال جو اہم ترین ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس جنگ میں اگر کسی ایک فریق کی جیت ہو جاتی ہے جو ممکن نہیں ہے( جو عالمی سرمایہ داری کی متروکیت ہے کیونکہ ہمیشہ بادشاہوں سے پہلے ان کے غلام مرتے ہیں اور موجودہ پاکستان امریکہ کا بہترین پیادہ ہے)تو کیا اس سے ملک وقوم کی ابتر حالت تبدیل ہو جائے گئی ۔ ہر ذی شعور اس کا جواب آسانی سے دے سکتا ہے جو کہ منفی یعنی،، نہیں ،، میں ہے ۔ پھر یہ جنگ کیوں اور کس کے لیے ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ہم نے آج نہیں بلکہ پہلے بھی کئی بار اور ہر بار لکھا ہے کہ اس جنگ کا کوئی انت نہیں کیونکہ دونوں طرف حکمران طبقہ اور اس کے گماشتے ہیں جو حکمرانی کے لالچ اور ہوس کا شکار ہیں جن کا مذہب دین دھرم ملک وقوم صرف اور صرف روپیہ پیسہ ، دھن و ولت اور سرمایے کے مفادا ت ہیں یہ ریاست اور اسکے ادروں اور حکمرانو ں کی جنگ ہے جس کا عوام اور محنت کش طبقے سے کوئی واسطہ نہیں اور اگر کوئی واسطہ یا تعلق ہے تو بس اتنا کہ اس نے اس جنگ میں مرنا یا برباد ہو ناہے یا پھر عوام کو اس کے خلاف اپنی جنگ طبقاتی لڑائی کا آغاز کر نا ہے جو اس کو موجودہ اذیتی حالات سے نجات دلاسکتی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایک گروپ یا تنظیم کسی بڑی اور مسلسل مدد کے بغیر ایک ریاستی باقاعدہ فوج کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ اور وہ بھی دنیا کی آٹھویں بڑی جدید ترین اسلحہ سے مسلح فوج کا؟ یقیناًنہیں۔ آج تک جو طالبان پاک فوج کے خلاف مذاحمت کر رہے ہیں یہ کھبی بھی مقامی اور عالمی حکمرانوں، ریاستوں اور ریاستی اداروں کے ایک حصہ کی پشت پناہی کے بغیر اتنا لمبا عرصہ لڑ نہیں سکتے تھے اور دوسری طرف سرمایہ دارانہ پاکستانی ریاست بھی اپنے نظام کے ہاتھوں کمزور اور اپائج ہو چکی ہے جس سے یہ حکمرانوں طبقات کو اکھٹا رکھنے میں ناکام ہے اور انکی ہوس کی آبیاری کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اور دسری طرف آج یہ واضح ہو چکا ہے اور عام زد زبان ہے کہ گلف اور سعودی عرب کی ریاستیں اور انکے حکمران پاکستان اور افغانستان میں اپنے رجعتی مفادات کی باز یابی کے لیے ملائیت کی بھر پور مدد کرتے ہیں ان میں جماعت اسلامی بھی سرفہرست ہے ۔ اور ساتھ ہی امریکن ایجنسیاں بھی مذہبی انتہا پسندوں کی اس لیے مدد کرتی ہیں کہ امریکن ریاست اور دوسرے ممالک جنگیں کرتے رہیں تاکہ آج دنیا میں سب سے زیادہ تیار ہونے والا اسلحہ جو امریکہ کے ڈپووں میں پڑا ضائع ہو رہا ہے اس کو منڈی میسر رہے اور یہ فرمیں منافع کماتیں رہیں کیونکہ اسلحہ بنانے والی فرمیں قومی ملکیت میں نہیں بلکہ نجی مالکان کے کنٹرول میں ہے جنکو صرف اپنے بڑھتے منافع سے غرض ہے جو سرمایہ داری کا بنیادی اصول بھی ہے اس لیے اوریقیناًمنڈی کے پھیلاو اور اس میں اسلحہ کی زیادہ سے زیادہ کھپت سے ہی شرح منافع قائم رہ سکتا ہے ۔ یعنی جنگیں اور پھر جنگیں اور شدید ترین بھیانک ترین اور وسیع ترین جنگیں ، اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ،، جنگیں بڑی ہولناک ہوتی ہیں اور ان سے کمایا جانے والے منافع بھی اتنا ہی ہولناک اور زیادہ ہوتے ہیں،، جنگ جہاں سیاست کو لاگو کرنے کا ایک جبرانہ طریقہ ہے وہاں ایک بڑی دوکانداری اور بڑا کاروبار بھی ہے ۔ اور اب یہی دھندے سرمایہ داری کے تحت پاکستان کا اور اس کرہ ارض کامستقبل ہیں ۔ مارکسی استادوں نے اس کی پیش بندیاں بہت پہلے کر دی تھیں ۔ لینن نے اپنی کتاب ،، سرمایہ داری سامراج کی آخیری منزل ،، میں لکھا ہے کہ اب اس کرہ ارض پر سرمایہ داری جتنی دیر اور قائم رہے گئی یہ روز با روز پہلے سے بھیانک اور خونی ہو تی چلے جائے گئی۔ کیونکہ ہر سیاست معیشت کو منعکس کر تی ہے اور معیشت تباہ حال ہے اور موجودہ رائج الوقت نظام میں ترقی اور ارتقا کی ہر صلاحیت دم توڑ گئی ہے نہ صرف مقامی سطحوں پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اس لیے موجودہ نظام کے تحت تباہ و بربادی کسی بھی مارکسسٹ کے لیے عجب نہیں ہے اسی تباہی سے بچاو کے لیے تو وہ آج تک لڑتے رہے ہیں اور آج بھی لڑ رہے ہیں کیونکہ آج عالمی سرمایہ داری،، سامراجیت،، کی شکل اختیا ر کر کے اپنے اند ر سماجی ترقی کی تمام گنجائش ختم کر بیٹھی ہے جس سے اسکے قائم رہنے کی تمام سماجی بنیادیں بھی ختم ہو گئی ہیں اب یہ اپنے آپ کو صرف اور صرف ستم وجبر اور زبردست استحصال پر ہی قائم رکھ سکتی ہے یہ وقت کا پہیہ الٹا گھومنا چاہتی ہے جو ممکن نہیں جس سے معاشرے میں انتشار اور خلفشار پیدا ہو تا ہے جس کو حکمران کنٹر ل کرنے کے لیے ظلم کی آخیری حدوں کو بھی کراس کررہے ہیں اور پوری دنیا میں جنگ جدل کا بازار گرم ہے اور یہی موجودہ حالات سرمایہ داری نظام کے خاتمے کا اعلان ہے ۔ یقیناًعالمی سرمایہ داری کی تباہی سب سے پہلے چھوٹی اور کمزور منڈیوں یا ممالک میں اپنا بدترین اظہار کرئے گئی جو ہو رہا ہے پاکستان بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ ہمارے حکمران اور روائتی پیشہ وار دانشوار اور صحافی ہمیں یقیناًایسے تجزیوں اور باتوں سے روکتے ہیں اور روکیں گئے کیونکہ انکا روزگار اور ملازمتیں اس سے منسلک ہے ۔ لیکن سچ کو آنچ نہیں ہمیں حقائق کا سنجیدگی اور دینداری سے تجزیہ کرنا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ آج محنت کشوں کو ایک ہونا ہے طبقاتی لڑائی کا آغاز کر نااپنے مسائل کے حل اور موجودہ حالات کی تبدیلی کے لیے اپنے سرخ پرچموں کو جس پر ہتھوڑے اور درانتی کا ان مٹ نشان ہے انکو گرد سے جھاڑ کر ایک بار پھر لہرانا ہے اور پھر اپنے دشمنوں کو للکارنا ہے جس کے سامنے آج تک کوئی نہ ٹک سکا اور پھر یقیناًہم بھی دیکھیں گئے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ہمارے مطالبات ۔ ۔ ۔۔ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی جماعتوں پر مکمل پابندی انکے اثاثوں کی ضبطگی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ مذہب رنگ ، زبان ، یاکسی بھی تعصب کی بنیاد پر جماعت بندی پر مکمل پابندی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ طالبان اور دسری انتہاپسند جماعتوں کی جنونیت کے خلاف پاکستان کی عوام اور محنت کش طبقے کو فوجی تربیت اور مسلح کیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کو منظم کرنے کے لیے عوام کی مسلح کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن کی قیادت کو یہ خود منتخب کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کے تمام میڈیے کو اس سے منسلک ورکروں اور انکی منتخب قیادت کو دیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تمام بڑی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے ان کو مزدورں کے جمہوری کنڑول میں دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کر کے ملکی بحرانوں کو ختم کیا جاسکے اور ما لکان کے پیدا کردہ خودساختہ بحرانوں کوبھی ختم کیا جاسکے ۔ تمام ملکی کام کو تمام کام کے قابل افراد میں برابر تقسیم کیا جائے اور ایک تولہ سونے کے برابر ہر مزدور کی تنخواہ کیا جائے ۔ اور بے روگاری کی صورت میں کم از کم آٹھ ہزار الاونس دیا جائے ۔ اور تمام ملکی دولت کو برابر تقسیم کرنے کے تمام اقدامات کیے جائیں ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی مسائل کے حل کے بغیر کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا نہ سیاسی اور نہ ہی طالبان کی لعنت کا۔ ہمیں سوشلزم کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ سرمایہ داری کا جبر اب بہت ہو چکا۔