Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

وینزویلا انقلاب کی حتمی فتح ابھی باقی ہے

  وینزویلا انقلاب کی حتمی فتح ابھی باقی ہے
پیٹر ک لارسن ۔ ترجمہ، اسدپتافی
چنگاری ڈاٹ کام،02.12.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہنڈراس میں ہونے والی فوجی بغاوت اور کولمبیا میں امریکی فوجی مداخلت میں اضافہ وینزویلاکے انقلاب اور پورے لاطینی امریکہ کے عوام کیلئے شدید خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر عالمی معیشت کا بدترہوتابحران صورتحال کو اور بھی گھمبیر کرتا جارہاہے۔ اور یہ سارا کچھ مل کر اس بات کا تقاضا کر رہاہے کہ بولیویرین انقلاب کو اب بغیر کسی تاخیر اور لگی لپٹی کے اس کے منطقی انجام کی طرف لے جایا جائے۔ پچھلے کچھ مہینوں کے اندر وینزویلا اور لاطینی امریکہ کے دیگر ملکوں میں ہونے والے واقعات نے انقلاب اور رد انقلاب کے مابین تضادات کو انتہائی نازک مقام پر لاکھڑا کردیا ہے۔ سب سے پہلا واقعہ تو پچھلے جون میں ہنڈراس میں ہونے والی فوجی بغاوت تھی،یہ بغاوت صرف ہنڈراس کے ہی نہیں بلکہ السلواڈور، بولیویا، ایکواڈورسمیت وینزویلا کے عوام کیلئے ایک کھلا انتباہ تھی اور ہے۔ پھر کچھ دنوں بعد ہی یہ اعلان سامنے آیا کہ کولمبیا میں امریکی فوج کی موجودگی کومقداری اور معیاری سطح پر زیادہ موثربنایا جارہاہے۔ اس سے وینزویلا اورکولمبیا کے مابین سفارتی تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے اور بولیویرین عوام اس کی وجہ سے خطرے اور تصادم کی زد میں آچکے ہیں۔ سب سے اہم ترین عنصر عالمی معاشی بحران ہے جس نے وینزویلا میں انتہائی گہرے و سنجیدہ اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ جہا ں محنت کش اپنے مالکان کی جانب سے سخت ترین حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کولمبیا میں امریکی فوجی اڈے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہنڈراس میں ہونے والی فوجی بغاوت کے جھٹکے اور صدمے کے بعدجولائی میں امریکہ اور کولمبیا کے مابین ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق امریکہ کو اجازت دے دی گئی کہ وہ کولمبیا میں اپنے اڈے قائم کرے گا۔ اس معاہدے نے سارے لاطینی امریکہ میں ایک سماجی زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی۔ عسکری ماہرین کے مطابق کولمبیا میں قائم ان سات امریکی اڈوں میں سے سب سے اہم ترین پالن کوئرو Palanqueroکا اڈہ ہے جس کی مدد سے امریکی بحرالکاہل پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیں گے۔ صرف اسی ایک اڈے پر امریکی حکومت چھالیس ملین ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ ہوگوشاویز نے اس پر فوری رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کولمبیا کے ساتھ سبھی سفارتی اور معاشی تعلقات منقطع کر لیے۔ بولیویا اور ایکواڈورنے بھی اس معاہدے کی سختی سے مذمت کی ہے۔ کولمبیا کا صدر الوارو یورائب عملی طور پر تنہا ہو چکا ہے اور پچھلے دنوں علاقائی ممالک کی ایک میٹنگ کے دوران اسے اس وقت سخت ندامت اور ہزیمت کا سامنا کرناپڑگیا جب میٹنگ میں شریک ہر سربراہ مملکت نے اس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور اس معاہدے پر اس کی شدید مذمت کی۔ یہ سب صدور یورائب کی بدقسمتی سے لیفٹسٹ تھے اور ان سب نے معاہدے کو یکسر مسترد کردیا۔ کولمبیا میں قائم ہونے والے امریکی اڈوں کا مقصد کسی طور بھی منشیات کی روک تھام نہیں ہے، جیسا کہ بیان کیاگیا ہے بلکہ اس کا نصب العین کولمبیا اور ساتھ کے ملکوں میں انقلابی ابھاروں کی ’’دیکھ بھال،، کرنا ہے ۔ پچھلی دہائی میں کولمبیا نے اپنا دفاعی بجٹ جو کہ اس کے جی ڈی پی کا پہلے دو اعشاریہ پانچ فیصدہواکرتا تھا ، بڑھاکر پانچ فیصد کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کولمبیا اب وہ ملک بن چکاہے جو اپنی جی ڈی پی کی شرح کی مناسبت سے دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کررہاہے ۔ اسرائیل اور برونڈی کے بعد کولمبیا دفاع پرسب سے زیادہ خرچ کررہاہے ۔ کولمبیا کے ساتھ یہ معاہدے ایکواڈور میں قائم امریکی اڈوں کی مدت ختم ہوجانے اور ایکواڈو ر کے صدر کورائیاکی جانب سے اس کی توثیق نہ کیے جانے کے بعد عمل میں لائے گئے۔ امریکی صدر اوبامہ کے دانتوں کی کھلکھلاہٹ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے ساتھ بھائی چارے کے اعلانات محض دھوکہ اوردکھاوا ہیں اور کسی کو بھی اس بارے میں کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے ۔ امریکہ ایک بڑی سامراجی طاقت ہے اورجو بہر صورت خطے میں اپنا اثرورسوخ اور کنٹرول قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ وہ ہر حال میں اس علاقے کو اپنے حلقہ اثر میں رکھنے کی کوشش کرے گا۔ امریکی سامراج کے ایک نمائندے کے طورپر اوبامہ ہر حال میں لاطینی امریکہ میں سامراجی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔ لاطینی امریکہ میں تیز تر ہوتے طبقاتی تضادات اورا ن کے نتیجے میں جنم لینے والی انقلابی تحریکیں امریکہ کو اس بات پر مجبورکررہی ہیں کہ وہ صورتحال کو دیکھتے ‘ سمجھے اور اس پر قابوپانے کی کوشش کرے۔ کولمبیا کے ساتھ اس کا حالیہ عسکری معاہدہ بھی اسی خواہش اور کوشش کی غمازی کرتاہے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وینزویلا کی معیشت بحران کی لپیٹ میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ونیزویلا نے دو ہزار چار سے دو ہزار سات تک کے عرصے میں معاشی حوالے سے ترقی کی بڑی شرح سے استفادہ کیا مگر اس وقت کے اعدادوشمار اس امرکی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اب اس کی معیشت عالمی بحران سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ دو ہزار نو کی دوسری سہ ماہی میں اس کی مجموعی قومی آمدنی دو اعشاریہ چار فیصد تک گرگئی ۔ جبکہ سال کی پہلی سہ ماہی کی جی ڈی پی کی شرح بھی بہت معمول صفر اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔ اس کی ایک وجہ صنعت اورمینو فیکچر نگ کے شعبے میں نجی سرمائے کا نہ ہونا ہے۔ وینزویلا کے مرکزی بینک کے مطابق دوسری سہ ماہی کے اندر نجی معاشی سرگرمی میں چار فیصد گراوٹ آئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پچھلے دس سالوں کے عرصے میں وہاں کے سرمایہ داروں نے چارہزار سے زائد بڑے کارخانے اور ادارے بند کر دیئے ہیں۔ اسی طرح ہمیں تیل کی آمدنی میں ہونے والی کمی کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کرناچاہئے جو ریاست کو اب تک ہو رہی تھی۔ دو ہزار آٹھ کی دوسری سہ ماہی میں ریاست نے تیل کی مد میں آٹھائیس اعشاریہ پانچ سو ستاونویں ڈالرکمائے جبکہ اس سال اسی عرصے میںیہ کمائی کم ہوکر تیرہ اعشاریہ پانچ سو چھہتررہ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ آمدنی میں اکاون اعشاریہ نو فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایک ایسے ملک کیلئے، جس کی مجموعی قومی آمدنی کا تیس فیصداورجس کے ریاستی بجٹ کا پچاس فیصد دارومدارتیل کی آمدنی پر ہو،یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ تیل کے علاوہ وینزویلا لوہااور ایلو مینیم بھی برآمدکرتا ہے ، ان کی بھی قیمتیں عالمی منڈی میں انتہائی کم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکہ کے دوسرے ملکوں کی طرح سے وینزویلا میں بھی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی شدیدمتاثر ہوئی ہے۔ پہلے بھی جنوری تا اکتوبر دو ہزار آٹھ میں یہ پچھلے سال کی بہ نسبت آٹھارہ فیصد گری تھی۔ ان سب عوامل نے مل جل کر وینزویلا کی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ وینزویلا حکومت میں شامل الی روڈریگوئز جیسے اصلاح پسندلیڈرجو وینزویلاکا وزیرخزانہ بھی ہے ، یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بہت ہی جلد پہلے کی طرح آسمان کو چھوئیں گی اور بس۔ قیمتیں بڑھتے ہی سب ٹھیک ہوجائے گاہماری معیشت کو ایک نئی زندگی میسر آجائے گی۔ لہٰذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ پچھلے دومہینوں میں ہم معیشت میں ایک خفیف سی بہتری ہوتی دیکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ کسی طور بھی اس بات کی ضمانت فراہم نہیں کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں اس بہتری میں کوئی بڑھوتری ہو گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک دو ہزار آٹھ کے مقابلے میں دو ہزار نو میں تیل کی طلب اور کھپت میں کمی کی پیشین گوئی کر چکی ہے۔ لیکن جو کیفیت اس وقت جاری وساری ہے اس سے قیمتوں میں معمولی اضافہ ہو بھی گیا تو اس سے وینزویلا کی معیشت کو جن عذابوں کا سامنا ہے ، یہ اضافہ کسی طور بھی ان سے چھٹکارانہیں دلا پائے گا۔ ان عذابوں اور دشواریوں میں سرمائے کا روک لیا جانا، معیشت کو سبوتاژ کیا جانا، سٹے بازی اور تذبذب وغیرہ شامل ہیں جو وہاں کے سرمایہ دار دانستہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہاں ہم تیں اور عناصروعوامل کا بھی ذکر کرنا چاہیں گے جو عمومی طور پر وینزویلا کی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک اہم عنصر انقلاب کا ہے جو رفتہ رفتہ پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اورکوئی بھی حکمران طبقہ اور سرمایہ دار کبھی بھی سرمائے کو وہاں کام میں لانے کیلئے اعتماد نہیں کرے گا۔ دوسراعمومی عنصر سرمایہ داروں کی طرف سے معیشت کی دانستہ بدحالی کی کاوشیں ہیں اور سب سے اہم عنصر حکومت میں شریک وہ سب اصلاح پسند ہیں جو منڈی کی معیشت کے تقاضوں کوپوراکرنے کیلئے اس کی خدمت کرنے میں مصروف ومگن ہیں۔ ان کی یہ کوششیں معیشت کو ازاں بدتر اور سماج کو مزید اضطراب میں دھکیلتی چلی جارہی ہیں ۔ یہ بحران سب سے زیادہ وینزویلا کے محنت کش طبقے کو متاثرکررہاہے۔پچھلے دنوں جنرل موٹرز،جو اپنی گاڑیوں کا چالیس فیصد وینزویلاکو فراہم کرتی ہے ،نے تین مہینوں سے اپنے پیداواری پلانٹ بند کر دیئے ہیں ۔ جس کے فوری نتیجے کے طورپر ہزاروں مزدور وں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھوناپڑگیا۔ ابھی انہی دنوں میں ہی ہم ارجنٹائن میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح سے مٹسوبشی نے واضح طورپر سیاسی نیت و ارادے سے ، غیرقانونی طورپر چودہ سو ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا ۔ پلانٹ کی اچانک تالہ بندی کر دی گئی جس کا مقصد وہاں کی انقلابی ٹریڈیونین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔ لیکن مزدوروں کے جراتمندانہ اور ولولہ انگیز جذبے کے ساتھ صورتحال کو بھانپا‘ اس کا مقابلہ کیا اور اپنی لڑائی لڑی اور جیتی۔ اسی نوعیت اور کیفیت کے واقعات آنے والے دنوں میں وینزویلا میں بڑے پیما نے پر سامنے آ سکتے ہیں ۔ جس سے وہاں جاری طبقاتی جنگ میں اور بھی تیزی و شدت آجائے گی ۔ پہلے ہی وہاں بیروزگاری کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ پچھلے جون میں یہ سات اعشاریہ آٹھ تھی جو جولائی میں بڑھ کر آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد ہو چکی ہے ۔ پی ایس یو وی مزدوروں کا معاملات پر کنٹرول اورنگرانی وہاں کی سوشلسٹ پارٹی پی ایس یو وی کے اندر کئی اہم اور غیر معمولی واقعات جنم لے چکے ہیں اور لے رہے ہیں ۔ شاویز نے ورکروں کو یہ ’’اختیار،، دے دیا ہے کہ وہ ہر طرف اور ہر جگہ اپنے ’’گشت،، کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کیلئے پارٹی میں ایک نیا اور انوکھاشعبہ(برانچ )قائم کر دیا گیا ہے۔ جس سے کارکنوں اور عہدیداروں کو وسیع اختیارات ہاتھ آجائیں گے۔ کوئی بیس لاکھ افراد اب تک اس ’’گشت ،، اور’’ نگرانی،، کیلئے خود کو ’’رجسٹر،، کرا چکے ہیں ۔ شاویز نے تو اس سے بھی بہتر تجویز دی ہے کہ پارٹی کے ساتھ ساتھ ’’محنت کشوں اور ورکروں،، کی ’’پٹرولنگ،، کا شعبہ بھی تخلیق کیا جائے۔ پی ایس یو وی کی برانچوں کو فیکٹریوں سمیت ہر کام کی جگہ پر منظم اور سرگرم کیا جائے گا۔ کئی فیکٹر یوں اور اداروں میں محنت کشوں نے اس تجویز کو فوری طورپر عملی جامہ پہناناشروع کردیا ہے۔ مٹسوبشی، ویویکس، انویوال اور سیڈورمیں پی ایس یو وی کی برانچیں قائم کی جا چکی ہیں۔ جن میں محنت کشوں کی بڑی تعداد دلجمعی اور جوش وخروش سے شریک ہورہے ہیں ۔ پارٹی کی قومی کانگریس اس سال اکتوبر میں ہوناتھی مگر قیادت کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیاہے کہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر نومبر یا دسمبر میں منعقدہوگی۔ اس بات کا امکان ہے کہ پارٹی کے نوجوانوں کی بھی الگ کانگریس اسی کے ساتھ ہی منعقدکی جائے گی۔ اور یہ کہا جارہاہے کہ یہ کانگریس پارٹی کے بائیں اور دائیں بازوکے مابیں ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی،، الگ کر دے گی۔ یعنی انقلابیوں اور اصلاح پسندوں کے مابین فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ فیکٹروں یوں‘ اداروں میں برانچوں کی وسیع تعداد کھلنے سے یہ بات عیاں ہے کہ اب محنت کش طبقہ پارٹی کے فیصلوں پر فیصلہ کن انداز میں اثراندازہوسکے گا۔ اور یہ کیفیت افسرشاہی کے نکتہ نگاہ سے انتہائی تشویشناک ہے۔ اور یوں پارٹی کے اندرتلخ وشیریں بحث مباحثوں کیلئے حالات تیار ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تناظر،۔،۔ کیاہوسکتاہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دائیں بازو(یا پھراس کے انتہائی موثر فیصلہ کن عناصر)نے ،انقلاب کے خلاف اپنی پچھلی تمام تر کوششوں میں ناکامی اور ہزیمت کے بعد ،یوں محسوس ہوتاہے کہ اپنا طریق کار اور حکمت عملی تبدیل کر لی ہے ۔ اور انہوں نے وہی وطیرہ اپنالیا ہے جو انیس سو اسی کی دہائی میں نکاراگوا کے رد انقلاب کے وقت اپنایا گیاتھا۔ اس طریقے اور وطیرے کا حتمی مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انقلاب کی اب تک کی سبھی حاصلات کو بے رحمی سے تہس نہس ، تباہ وبرباد کردیاجائے۔ اور اس طرح عام انسانوں میں سے انقلاب کیلئے جوش جذبہ اورامیدآدرش کو بے یقینی اور محرومی کے خونی سمندر میں ڈبودیاجائے۔ پچھلے دنوں نئی نافذکردہ تعلیمی پالیسی ایل او ای کے قانون کے خلاف جو مظاہرے ہوئے ہیں ، ان سے اشارہ ملتاہے کہ اپوزیشن کی قوت میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہر چند کہ اس نئے بولیویرین قانون کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں اور مظاہروں میں لوگوں کی تعداداپوزیشن کی تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم یہ بھی طے ہے کہ ہم اپوزیشن کے جلسوں میں شرکت میں اضافے کو کسی طور نظراندا زنہیں کر سکتے ہیں ۔ اپوزیشن نے دسمبر دو ہزار پانچ کے الیکشن کا بائیکاٹ کرکے ایک فاش غلطی کی تھی ۔ جس کے نتیجے میں ان کا ایک بھی نمائندہ پارلیمان میں نہ پہنچ سکاتھا۔ یہ صرف پو ڈیم اس کی وجہ سے ممکن ہواکہ ان کی نمائندگی اسمبلی میں ممکن ہوئی، جو کہ وہاں کی ایک سوشل ڈیموکریٹ پارٹی ہے اور جس نے غداری کرتے ہوئے اپنے کو الگ کرلیاتھا۔ اوریوں انقلاب کی اپوزیشن کوایک معمولی نمائندگی میسر آگئی تھی۔ لیکن اب کی بار وہ اس قسم کی غلطی کو نہیں دہرائیں گے۔ اپنے سست مگر پیہم کام کی وجہ سے وہ آئندہ فروری میں اسمبلی کے الیکشن میں کافی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ۔ ان کا مقصد واضح ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسمبلی ارکان ۔ جن کی مددومعاونت سے وہ حکومت کی تمام ترجیحات کو خراب اور تہہ وبالا کر سکیں ۔ وہ افسرشاہانہ بدعنوانی اور اشیائے ضرورت کے مسئلے کو اچھال کر شورشرابہ ڈالیں گے۔ اس وطیرے سے ان کی کوشش ہے کہ وہ درمیانے طبقے کو حکومت کے خلاف سرگرم کر سکیں اور یہی نہیں بلکہ محنت کش طبقے اور عوام الناس کی ہمدردیاں بھی جیت سکیں۔ کچھ اس قسم کا سماجی ماحول پیداکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ جس کے باعث شاویز سے جان چھڑالی جائے اور انقلاب کا گلہ گھونٹ دیاجائے۔ یہ نتیجہ پارلیمانی ذرائع سے حاصل ہوتاہے یا غیرپارلیمانی سے ‘بس یہ ہونا چاہیے اور یہی وہ چاہتے ہیں۔ وینزویلا کے محنت کشوں ‘ کسانوں اور نوجوانوں نے اب تک کئی بار انقلاب کے خلاف رد انقلاب کے ہر حملے کو انتہائی جوش جذبے کے ساتھ شکست فاش دی ہے۔ اور اب بھی وہ ایک بڑی لڑائی کے بغیر اس جنگ کو نہیں ہاریں گے۔ مگر انقلاب کو ہوتے ہوتے دس سال گزر چکے ہیں جبکہ اس دوران معاشی کیفیت بھی بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے ۔ اس تاخیر کی وجہ سے عوام میں شاویز کے کئی ہمدرد اور خیر خواہ اب کچھ اور سوچنے پر مجبورہو رہے ہیں اورہوتے چلے جارہے ہیں ‘سوشلزم پر بحثیں اورسوال جواب تو شروع ہیں مگر یہ ابھی اپنی عملی افادیت اور مظاہرے سے قاصر ہے ۔ سماج میں ابھی کوئی ریڈیکل تبدیلی سامنے نہیں آسکی ہے ۔ عوام ، خاص طورپرباشعور پرتوں میں اس سوچ کا آغازہوچکاہے کہ اشرافیہ کی قوتوں کو یکسر اکھاڑے بغیر یعنی ذرائع پیدااوارکی نجی ملکیت کے خاتمے کے بغیر انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا‘ نہ ہورہاہے اورنہ ہی یہ ہوگا۔ یہ اہم ترین بنیادی نکتہ پی ایس یو وی کے اندرہر سطح پر زوروں سے بحث میں آچکاہے۔ نوجوان اور کارکن اور عہدیداراس کو سمجھ رہے ہیں یہی نہیں بلکہ ٹریڈیونینوں کے اندر بھی یہی تذکرے ہورہے ہیں۔ وہ کہاوت جو کامریڈ لینن اکثر بیان کرتے تھے کہ ’’ زندگی سکھاتی ہے‘‘، یہی اب ہورہاہے ۔ بولیویرین انقلاب کے پچھلے دس سالوں کے تجربات بہت کچھ سکھا چکے ہیں ۔ تحریک کی باشعور پرتیں جس دن بھی ایک خالص مارکسی پروگرام اپنائیں گی تو وہ انتہائی کم ترینم وقت میں عوام کی انتہائی تعداد کو اس پروگرام کیلئے جیت لیں گی ۔ یہی ایک واحد ذریعہ ہے جو وینزویلا کے انقلاب کو آخری کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور یا کوئی بھی درمیانی راستہ نہ تھا‘ نہ ہے اور نہ ہوگا۔
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved