Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

پاکستان ۔ اس دشت میں اِک شہر تھا

  پاکستان ۔ اس دشت میں اِک شہر تھا
لال خان
چنگاری ڈاٹ کام،30.11.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب بھی کسی معاشرے میں معاشی وسماجی بحران بے پناہ شدت اختیار کرجاتا ہے تو اس کی اہم علامت حکمران طبقات کے تضادات او ر باہمی تصادموں میں تیزی او ر شدت آجاتی ہے ۔ پاکستان کے حکمرانوں اور اس ریاست میں باہمی تصادم نہ صرف پاکستانی معیشت اور سماج کی زبوں حالی کی غمازی کرتا ہے بلکہ عالمی پیمانے پر سرمایہ داری کا شدید بحران بھی اس انتشار کی ایک اہم وجہ ہے۔ بین الاقوامی طور پر سرمایہ داری کا دھڑام دنیا کی سب سے بڑی معیشت ۔ امریکہ پر تباہ کن اثرات کاموجب بنا ہے۔ اس معاشی انتشار سے سامراج کی خارجی‘ سیاسی اور سفارتی پالیسیوں پر بھی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اوباما کے صدر بننے کے بعد امریکہ میں اس کی بہت بلند عوامی حمایت جس تیز رفتاری سے گری ہے اس کی امریکی تاریخ میں کم ہی مثالیں ملتی ہیں ۔ ایک طرف نام نہاد اصلاحات کا ڈرامہ رچا کر اور دوسری جانب خصوصاً افغانستان میں جنگ کو تیز اور زیادہ خونریز کرکے اوباما امریکی عوام میں قومی شاونزم ابھار کر اپنی پالیسیوں کے لیے حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ وہ جس سرمایہ داری نظام کی بحالی کی کوشش کررہا ہے وہ اس قدر گل سڑ چکا ہے کہ مزید انسانی بربادی پھیلائے بغیر اس کا وجود ہی قائم نہیں رہ سکتا ۔اسی معاشی بحران کے اثرات جدلیاتی طور پر سیاسی ‘ سفارتی اور جنگی میدانوں میں بھی ناگزیر ہیں ۔ اوباما کو نوبل انعام ملنے کے با وجود اس کا جارحانہ سامراجی کردار نہیں بدلنے والا ۔ لیکن جہاں معاشی بحران کو حل کرنے میں اس کو ناکامی ہورہی ہے وہاں افغانستان اوبامہ کا ویت نام بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔ انیس سو چوہتر میں ویت نام کی عبرتناک شکست سے امریکہ ابھی تک نہیں سنبھلا‘ دیکھا جائے تو امریکہ کو عراق میں بھی شکست ہوئی ہے اور اس کے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوسکا۔ حکمرانوں نے پسپائی کو سست کرکے اور میڈیا نے اپنے مخصوص عیارانہ کردار سے اس شکست کو کسی حد تک پردہ پوشی میں رکھا۔ لیکن افغانستان میں جو گھمسان کی جنگ جاری ہے‘ یہاں ہونے والی شکست امریکی حکمرانوں کے لئے شاید ویت نام سے بھی زیادہ کاری ضرب ثابت ہوگی۔ جنوبی ویت نام میں شمالی ویت نام کی حکومت اور کبھی روس کی حمایت واضح طور پر وہاں کے ویت کانگ گوریلوں کو امریکہ کے خلاف حاصل تھی ۔ لیکن افغانستان میں امریکی جارحیت کیخلاف ہونے والی مزاحمت کو کسی ملک یا ریاست کی اعلانیہ فوجی اور مالی امداد حاصل نہیں ہے اس کے باوجود کسی ریاستی امداد کے بغیر اور بڑی مالیاتی وفوجی منظم حمایت کے فقدان میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو ملنے والی مزاحمت ممکن نہیں ہے۔ یہیں سے پاکستان کے حکمران طبقات ریاست اور اس کی ایجنسیوں کا اس کاروائی میں ملوث ہونے کا شور باربار واشنگٹن اورکابل سے سنائی دیتا ہے ۔ افغان مزاحمت کی اس کوکھ کو قابو میں کرنے کی امریکی پالیسی بنیادی طور پر پاکستان کے بدعنوان اور لاغر حکمران طبقات میں پھوٹ اور تضادات کا باعث بن رہی ہے۔ ایک جانب سرکاری پالیسی کے تحت چلنے والے گروہ ہیں جن کے مالی مفادات امریکہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لیے وہ ہر امریکی پالیسی اور اقدام کو لاگو کرنے میں پوری طرح محو ہیں۔ جبکہ دوسری جانب وہ مالی مفادات ہیں جن کاماضی میں امریکہ سے تعلق رہ چکاہے۔ افغانستان میں انیس سو آٹھہتر کے انقلاب کے خلاف امریکہ نے جو رجعتی خانہ جنگی کروائی تھی اس پالیسی کے تحت پاکستان میں ملک کی بدترین درندہ صفت ضیاء الحق کی فوجی آمریت‘ مذہبی پارٹیوں اسلامی بنیاد پرستی اورآئی ایس آئی کو نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ ا ن کو ایک ردانقلابی کردار ادا کروانے کے لیے ہر طرح سے مسلح بھی کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو اس رجعتی جہاد کے لیے جہاں سعودی عرب اور دوسرے قدامت پرست ممالک سے مالی امداد دلوائی تھی وہاں اس جہاد کو فنانس کرنے کے لیے ہیروئن اور دوسری منشیات کی سمگلنگ ’ اغوا برائے تاوان اور دوسرے جرائم کے نیٹ ورک بھی استوار کرکے دیئے تھے۔ انیس سو اناسی کے بعد امریکی تو یہاں سے چلے گئے لیکن یہ ڈھانچے اور کاروبار برقرار رہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں آمریتیں اورجمہوریتیں آتی جاتی رہیں لیکن یہ ادارے نہ صرف برقرار رہے بلکہ اتنے مضبوط ہو کر ریاست پر حاوی ہوتے گئے کہ ہر حکومت ان کی تابع رہی ۔ اسی طاقت کے زعم میں انہوں نے کچھ ایشوز پر امریکی پالیسیوں سے بھی سرکش ہونے کی کوشش کی۔ ان دائیں بازو کی رجعتی قوتوں اور امریکی سامراج کے درمیان ایک لوہیٹ(Love Hate) قسم کارشتہ ہے۔ ان تضادات کے پیچھے جہاں سرمائے ( کالے اور سفید) کا ٹکراؤ ہے وہاں اس کے تحفظ کے لیے یہ سیاسی وسماجی حمایت بھی حاصل کرنے کے لیے ان تضادات کو بار بار ابھارتے ہیں ۔ تاریخی طور پر امریکہ کے خلاف پاکستان میں بڑی اور حقیقی بغاوت انیس سو آٹھاسٹھ ، اناہتر کے انقلاب کے دوران ابھری تھی ۔ پھرذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی حکومت کے دوران بہت سی مصالحتی کوششوں کے باوجود پاکستانی سماج کی امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے یہ تضادختم نہیں ہوسکا۔جب ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی حکومت کو معزول کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کیا تو اس کو امریکی سامراج کی مکمل آشیر باد حاصل تھی ۔ انہی دائیں بازو کی اندھیری قوتوں نے پاکستان کے محنت کشوں اور بائیں بازو پر امریکی سامراج کی پشت پناہی سے بے پناہ مظالم ڈھائے۔ لیکن آج امریکی سامراج انہی مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے ان رجعتی قوتوں سے ایک تصادم کا خونریز ناٹک رچا رہا ہے۔ امریکہ کو یہ’’جنگ،، مختلف مقاصد کے لیے درکار ہے۔۱۔ دہشت گردی اور اسلامی بنیادی پرستی کا بھوت کھڑا کرکے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے محنت کشوں کو اس کے خطرے اور خوف سے ڈرا کرکمزور رکھنا تاکہ وہ اپنے اوپر بڑھتے ہوئے سرمایہ دارانہ استحصال وکٹوتیوں کے خلاف ایک طبقاتی جدوجہد میں ابھر نہ سکیں۔2 ۔ جنگ کی کیفیت اور اسلحہ کے استعمال کے ذریعے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں( Military Industrial Complex)کے انسانی بربادی کے آلات کی فروخت اور ان منافعوں سے کسی حد تک امریکہ کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دلوانا۔ 3 ۔ اس دہشت گردی کے نام پر اپنا سیاسی ومعاشی جبر مزید گہرا کرنا اور دنیا کے پولیس مین ہونے کی دھاک جمائے رکھنا تاکہ ڈالر عالمی کرنسی کے طور پر برقرار رہے اور یورپی اور دوسرے بڑے ممالک امریکہ کے خوف میں مبتلا رہتے ہوئے اسکے معاشی مفادات میں رخنہ اندازی نہ کرسکیں۔ان مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کی صورتحال کو براہِ راست کنٹرول کرنے اور برطانوی راج سے بھی زیادہ نوآبادکاری کرنے کے لیے براہِ راست پاکستان کی سکیورٹی اپنے ہاتھ میں لینے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ نیوریارک ٹائمز کے مطابق’’ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیاں ڈائین کارپ(Dyn Corp) کے بارے میں اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ امریکہ اپنے آدمیوں پر مشتمل پاکستان کے اندر سکیورٹی اور انٹیلی جنس کا ایک متوازی نیٹ ورک استوار کررہا ہے،، ۔۔۔۔ دی نیوز لکھتا ہے’’ امریکہ کی سفیر اور اس کے نائب نے اپنی توپوں کے منہ پاک فوج کی جانب کردیئے ہیں اور اس پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ طالبان کی ’’کوئٹہ شورا،، کو تحفظ فراہم کررہی ہے،، ۔ جبکہ رابرٹ فسک(Robert fisk) نے برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ(The Independent) میں گیارہ اکتوبر کو لکھا ’’پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس کو یہ مکمل احساس ہے کہ اوباما کو کشمیر پر منصفانہ طور پر اقدامات لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ(پاکستان انٹیلی جنس) کی طالبان کو دی جانے والی حمایت میں اضافہ کریں،، ۔ پاکستان میں اس وقت امریکی سامراج کے ایجنڈے کو لاگو کرنے کے لیے سب سے زیادہ متحرک پیپلز پارٹی کی موجودہ برسراقتدار قیادت ہے۔ یہ کتنا بڑا تاریخی المیہ ہے کہ جس پارٹی کے بانی چیئرمین کے قتل میں امریکہ ملوث تھا آج اسی پارٹی کی قیادت امریکی سامراج کی سب سے بڑی گماشتہ بن گئی ہے۔ لیکن پاکستان کی حکومتوں اور یہاں کے بالادست طبقات کے لیے یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ سوائے پیپلز پارٹی کی(1971-77ء)حکومت کے بھی ایک مختصر عرصے کے ہر عہد میں ہر حکومت نے سامراج کی گماشتگی کی ہے۔ پاکستان کے قیام میں آنے کے چند ماہ بعد ہی نومبر انیس سو سنتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے میر لائق علی کو اپنے ایلچی کے طور پر واشنگٹن بھیجا اور امریکہ سے دو ارب ڈالر امداد کی درخواست کی تھی۔ لیکن امریکیوں نے ان کو صرف دس ملین ڈالر دیئے جو اس درخواست کردہ رقم کا صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد تھا۔ پاکستان کی سا لمیت اس کے بنتے ہی لٹ گئی تھی۔ اسکے بعد کے سویلین حکمرانوں نے جس امریکہ نوازی کا مظاہرہ کیا اس سے اس ملک کے حکمرانوں کی شرمناک تاریخ بھری پڑی ہے ۔ پھر مارشل لاء لگنے کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کی’’اصلاحات،، اور فوج کے اخراجات کے لیے مسلسل امریکہ سے امداد کے نام پر بھیک حاصل کی گئی۔ لیکن ایوب خان کے دور میں سامراجی امداد سے ہونے والی ترقی نے عوام کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کی بجائے اتنے شدید سماجی تضادات پیدا کردیئے جو پھٹ کر انیس سو آٹھاسٹھ، اناسٹھ کے سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں بھڑک اٹھے تھے۔ ضیاء الحق کے دور میں امریکہ نے اسلامائزیشن کے ذریعے اپنی جکڑ کو اور گہرا کیا۔ ضیاء الحق کی امریکہ کی غلامی کی انتہا کی داستان جنر ل کے ایم عارف کی کتاب میں ملتی ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ ضیاء الحق متواتر خود گاڑی چلا کر امریکی سفیر کو ملنے جایا کرتا تھا جو اس وقت کے صدارتی پروٹوکول کے بھی سراسر خلاف اور غیر قانونی تھا۔ ضیاء الحق کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی اس پالیسی میں کمی نہیں آنے دی۔ پیپلز پارٹی حکومت نے صدر بش سے مطالبہ کیا کہ چونکہ پاکستان ’’کمیونزم کے خاتمے،، کیخلاف جنگ میں فرنٹ سٹیٹ تھا اس لیے اس کو سامراجی امداد سے نوازا جائے۔نواز شریف جو ’’قومی بورژوازی،، اور پاکستانی شاونزم کے ذریعے درمیانے طبقے میں مقبولیت حاصل کرنا چاہتا تھا اپنی تمام قومی غیرت بالائے طاق رکھتے ہوئے کارگل اور دوسرے کئی ایشوز پر امریکہ سے بھیک مانگنے گیا تھا۔ شہباز شریف دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے صرف تین دن قبل امریکہ سے لوٹا تھا اور واشنگٹن میں اس نے امریکی حکام کے ان انتخابات کے نتائج کو امریکی پالیسی کے مطابق فکس کروانے میں معاونت کی تھی۔ مشرف آمریت کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اوردو ہزار ایک سے دو ہزار سات کے عرصے میں حاصل ہونے والی امریکی امداد کے ساتھ جو شرائط اور مطالبات منسلک تھے وہ بھی کم شرمناک نہیں تھے۔امداد کی شرط ان الفاظ میں لکھی گئی تھی’’ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے واردات کرنے والے تمام معلوم دہشت گرد کیمپوں کا خاتمہ کیا جائے گا‘‘۔ بہت سے موجود جرنیل جو اس وقت بھی اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز تھے ’’پاکستانی مقبوضہ کشمیر‘‘ کے فقرے کے استعمال سے قطعاً بے خبر نہیں تھے۔ شاید ان دنوں انکی قومی غیرت کچھ کمزور پڑی ہوئی تھی۔ لیکن پھر جب عالمی سرمایہ داری کا سنگین ترین زوال آیا اور افغانستان میں آئی ایس آئی کی پشت پناہی سے ہونے والی خانہ جنگی میں امریکی افواج کو کاری ضربیں لگنی شروع ہوئیں تو امریکی حکمرانوں کا اعتماد بری طرح گر گیا۔ وہ مشرف کی متحارب قوتوں میں سے توازن قائم رکھنے کی پالیسی کو برداشت اب نہیں کرسکتے تھے ۔ آٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو کراچی میں عوام کے جم غفیر اور ایک تحریک کے ابھار نے سامراج اور پاکستانی ریاست کو جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا۔تحریک کی شدت کو روکنے کے لیے اس کے محور بے نظیر بھٹو کا قتل حکمرانوں کے لئے لازم ہوگیا تھا۔ اس طرح مشرف کے ساتھ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت بنانے کا امریکی اور برطانوی پلان اے فیل ہوگیا تھا اور مشرف کو بھی معزول ہونا پڑا۔ ایسے میں پھر پرانے بندھنوں اور پلان بی معاہدے کے ذریعے زرداری کو صدر بنوایا گیا جس کے تحت امریکی مفادات کے لیے بے ٹوک اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن جہاں امریکیوں کو اپنی معیشت اور طاقت پر اعتماد کے فقدان کا سامنا تھا وہاں ان کا پاکستان کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی اعتبار اٹھ گیا ہے ۔ اسی وجہ سے ہم پاکستان کی ریاست کے اندر کے تصادم میں اضافہ ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر سالانہ پانچ سال تک امداد سخت شرائط کے ساتھ دی جائے گی۔ اگر ہم پاکستان کے پہلے باسٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کرجانے والے قرضے کے سود پر صرف ہونے والی تقریباً پنسٹھ فیصد سرکاری آمدن کا جائزہ لیں تو مالیاتی طور پر یہ رقم بہت ہی معمولی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کی معیشت کا جائزہ لیں تو یہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی ‘ بجٹ اور مالیاتی خسارے کا شکار ہے ۔ شرح پیداوار تاریخی طور پر کم ترین ہو کر ایک اعشاریہ آٹھ فیصد رہ گئی ہے ۔ پاکستانی سرمایہ داری کی اتنی ابتر صورتحال ہے کہ وہ ان سامراجی قرضوں کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتی۔ امریکی بھی اس کو بستر مرگ پر رکھتے ہیں تاکہ اس معاشی واقتصادی محکومی میں اس ملک کو رکھ کر اس کا معاشی استحصال جاری رکھیں ۔پھر جو فوجی امداد ملتی ہے اس سے بیشتر مہنگے امریکی ہتھیار ہی بکتے ہیں۔ اس کا بڑا حصہ واپس امریکی اسلحہ ساز اداروں کے پاس چلا جاتا ہے۔نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا ہے کہ پنتالیس فیصد امداد مختلف طریقوں سے امریکہ اور دوسرے امداد دینے والے ممالک کے انتظامی اخراجات میں صرف ہوجاتی ہے۔اس طرح امداد سے سوائے غلامی کی جکڑ مزید سخت ہونے کے کوئی بہتری یا ترقی ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب حکمران طبقات کے وہ گروہ جوحب الوطنی کا واویلا مچاتے ہیں درحقیقت یہ جانتے ہیں کہ پاکستانی سرمایہ داری سامراجی امداد کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ نواز شریف نے قرض اتارنے کی مہم اپنے دور میں شروع کی تھی۔ ہر دائیں بازو کے قومی شاونسٹ حکمران کی طرح اس نے بھی کشکول توڑنے کا نعرہ لگایا تھا ۔ اس کی ساری مہم میں پاکستانی امیروں(جن میں زیادہ تعداد بیرون ملک مقیم افراد کی تھی)نے کل ایک سو آٹھہتر اعشاریہ تین ملین ڈالر جمع کیا تھا۔ جبکہ اس وقت پاکستان پر کل قرضہ پنتیس ارب ڈالر تھا۔لیکن اس جمع شدہ رقم میں صرف آٹھائیس ملین ڈ الر ڈونیشن تھی جبکہ ایک سو آڑتالیس ملین ڈالر منافع بخش بانڈز کے ذریعے اور ایک اعشاریہ چھ ملین ڈالر قرضہ حسنہ کے تحت اکٹھاکیا گیا تھا۔ جب نواز شریف کی پہلی حکومت انیس سو ترنویں میں معزول ہوئی تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف ایک ارب ڈالر تھے جبکہ دوسری مرتبہ انیس سو ننانویں میں نواز شریف کی برطرفی کے وقت صرف سات سو ملین ڈالر کے ذخائر رہ گئے تھے۔ اس صورتحال میں نہ تو کیر ی لوگر بل کی امداد سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا ہے اور نہ ہی خود مختاری اور ’’غیرت مندی،، سے پاکستان کی سرمایہ دارانہ معیشت سنبھل سکتی ہے ۔ اس حقیقت کو ذرائع ابلاغ اور حاوی دانشور ومعیشت دان تسلیم کرنے کو تیارہی نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اتنا بوسیدہ اور متروک ہوچکا ہے کہ اس کی موجودگی میں قطعاً کوئی معاشی‘ سیاسی ‘ریاستی یا سماجی استحکام ممکن ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے قائم رہنے سے مزید عدم استحکام اور خلفشار بڑھے گا۔ اس ملک کے حکمران طبقات کا لالچ اور کمینگی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ سامراجی قرضوں میں ذاتی حصہ داری اور چوری کی غرض سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ جبکہ قومی وسائل کی مسلسل لوٹ مار ان کی اصل حب الوطنی ہوتی ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں کہ پاکستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے جبکہ اسکے حکمران امیرترین افراد میں شامل ہیں۔ پاکستان کی کل آمدن(GDP) کاصرف آٹھ فیصد حکمرانوں کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے جو گھانا جیسے غریب ملک کے پندرہ فیصد سے بھی کم ہے۔اس نظام کو سوشلسٹ انقلاب سے یکسر بدل کر ایک منصوبہ بند معیشت استوار کیے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ اس وقت جو کیر ی لوگر بل پر ایک لاامتناعی اور لایعنی بحث جاری ہے یا پھر جی ایچ کیو پر دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، یہ ان حکمران طبقات اور انکے سیاسی دھڑوں کے درمیان تضادات کی مختلف سطحیں اور شدتیں ہیں۔ دو ہزار سات میں امریکہ نے پاکستانی علاقے پر صرف تین ڈرون حملے کیے تھے جبکہ دو ہزار آٹھ میں سترہ ڈرون حملے ہوئے۔ دو ہزار نو اناتیس ستمبر تک تیتیس ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ دسمبر دو ہزار آٹھ میں امریکہ کی سابق وزیر خارجہ مینڈیلین البرائیٹ نے پاکستان کو ’’دنیا بھرکا درد سر،،(International Migraine) قرار دیا تھا۔ لیکن اس ’’دہشت گردی کیخلاف جنگ،، میں پاک فوج خود شدید داخلی تناؤ کا شکار ہے ۔ اس کے دو ہزار افراد اسی جنگ میں کام آئے ہیں اور پانچ ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ دہشت گردی بھی تیز ہوتی گئی ہے۔ جنوری دو ہزار چار سے جون دو ہزار نو تک چار ہزار آٹھ سو بتیس دہشت گرد حملے ہوئے جن میں پانچ سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ لیکن فوج میں امریکہ کی پاکستان میں متوازی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کی وجہ سے شدید مزاحمت اور غصہ پایا جارہا ہے ۔ امریکہ نے جب دباؤ ڈال کر آئی ایس آئی کو فوج کے کنٹرول سے نکال کر وزارت داخلہ کے اختیار میں لانے کی کوشش کی تو ردعمل بہت شدید تھا۔ جس دن یوسف گیلانی وزیر اعظم کے طور پر براستہ لندن واشنگٹن امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر جارہا تھا اسی روز یہ نوٹیفکیشن کرکے گیا تھا۔ لیکن جب وہ امریکہ میں ڈالاس کے ہوائی اڈے پر اتر ا تو اس وقت تک وہ نوٹیفکیشن منسوخ کیا جا چکا تھا ۔ آئی ایس آئی کو ’’درست،، کرنے کے مذاکرات بہرحال جاری رہے۔ حال ہی میں بیرونی کارپوریٹ خفیہ اور پیشہ ور جنگی ایجنسیوں کے خلاف سرکاری ایجنسیوں کی کاروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سابقہ بلیک واٹر جس کا نام تبدیل کرکے انٹر رسک رکھ دیا گیا اس کے آپریشن تیزی سے متوازی سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے طور پر شروع ہوئے ۔ دی نیوز کے مطابق’’ انٹررسک کے خلاف آئی ایس آئی نے آپریشن کیا اور وزارت داخلہ نے اس دباؤ کے تحت انٹررسک کا لائسنس منسوخ کردیا،،۔(دی نیوز چودہ اکتوبر دو ہزار نو )اسی اخبار کے مطابق امریکی سفارتخانے کے لیے بلغاریہ سے پی کے ایم تیس مشین گنوں ‘ پچیس بیرل کے گرنیڈ لانچر اور دوسرے جدید اسلحے کی دو بھاری کھیپیں منگوائی گئیں لیکن وزارتِ خارجہ ‘ وزاتِ داخلہ اور تجارت سے کوئی این اؤو سی حاصل نہیں کیا گیا اور حکومت پاکستان کے اہل کاروں نے اس سے بے خبری ظاہر کی۔ پندرہ اکتوبردو ہزار نو کے دی نیوز کے مطابق جی ایچ کیو پر جو حملہ ہوا ’’ اس میں میڈیا کوکوریج سے مکمل طور پر روکا گیا اور جو اطلاعات دی گئی ہیں ان میں بہت حد تک حقائق کو تبدیل کرکے ایک مخصوص انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیسے مرزا غالب نے خوب کہا تھا’’کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے،، ۔ لیکن اب حکمرانوں کا یہ پردہ بہت حد تک چاک ہوچکا ہے۔ ایسے میں کچھ مہم جو بزور طاقت ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی پالیسی کی حمایت کر نا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں اس رجحان کے موجود ہونے کے معروضی طور پر امکانات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے محنت کش طبقے کو سوائے مایوسی اور بدگمانی کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ا نفرادی دہشت گردی کاایک دوسرا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے ریاستی دہشت گردی کو تقویت او ر جواز فراہم ہوتے ہیں۔ فرانکو کے سپین او ردنیا کے کئی دوسرے ممالک میں ریاست خود بم دھماکے اور دہشت گردی کروا کے اپنا ظلم وجبر تیز کرتی رہی ہے ۔ موجودہ ریاست کے وجودکا مقصد ہی چونکہ اقلیتی حکمران طبقات کے مفادات اور ان کے استحصالی نظام کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اس لیے اس کا اصل حدف محنت کش ہوتے ہیں۔ ریاست عوام کی نظام کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں کو کچلنے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسزم انفرادی دہشت گردی کے طریقوں کو مسترد کرتا ہے اور اجتماعی طبقاتی جدوجہد کے ذریعے انقلابی تبدیلی کا لائحہ عمل پیش کرتا ہے ۔ موجودہ بحران میں جہاں ریاست کمزور ہورہی ہے وہ محنت کش اور بائیں بازو کی تحریکوں کے لیے زیادہ وحشت ناک بھی ہورہی ہے۔ اس حوالے سے ریاستی دہشت گردی کو جائز قرار دینا اور اس کی حمایت کرنا بھی ردانقلابی سوچ اور پالیسی ہوتی ہے۔ طبقاتی کشمکش ایک عرصے تک تیز چلنے کے بعد تھک کر جب چور ہوجاتی ہے اور محنت کش طبقہ انقلاب کے ذریعے نظام نہیں بدل سکتا تو دوسری جانب حکمران طبقات بھی پرانے انداز میں اپنی حاکمیت کو قائم نہیں رکھ سکتے ۔ ایسے بحران میں عموماً فوج یا ریاست کا کوئی ادارہ ایک ثالث یا ممتاز کل بن کر بونا پارٹزم کی صورت میں مسلط ہوجاتا ہے ۔ پاکستان میں فوجی آمریتوں کا بار بار مسلط ہونا اسی امر کی غمازی کرتا ہے ۔ لیکن یہاں تو یہ قوتیں بھی اب ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں ۔ اس سے ان اداروں کے اندر ٹکراؤ بھڑ ک اٹھا ہے۔حکمرانوں کی یہ باہمی لڑائی جو شدت اختیار کرتی جارہی ہے اس میں دہشت گردی کے حملوں میں تیزی آرہی ہے اور جس ترتیب اور پیشہ وارانہ انداز میں یہ حملے ہورہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک منظم ریاستی ادارے کی پشت پناہی کے بغیر یہ اتنی مہارت سے نہیں کیے جاسکتے۔ کوئی شہر‘ کوئی علاقہ ‘ کوئی مقام اس سے محفوظ نہیں ہے۔ پندرہ اکتوبر کو لاہور‘ پشاور اور کوہاٹ میں ہونے والے دھماکوں اور دہشت گرد حملوں کی ترتیب اور مطابقت پیشہ وارانہ ریاستی تربیت کی غمازی کرتی ہے۔ لیکن حکمرانوں کی ان باہمی لڑائیوں میں پاکستان کے سترہ کروڑ عوام جس ذلت کا شکار ہیں اسکی نہ تو میڈیا یا کسی ریاستی ادارے یا سیاسی پارٹیوں کو کوئی پرواہ ہے۔ وہ اپنی لڑائیوں( جو لوٹ مار اور دولت کے اجتماع کے گرد ہیں) میں اتنے محو ہیں کہ عوام کی حا لت زار کا ان کو کوئی اندازہ ہی نہیں ۔ موجودہ حکومت جس طرح نج کاری اور دوسری عوام دشمن جارحانہ سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر گامزن ہے اس سے یہاں کے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ تمام تر مہنگائی کے بعد اب دسمبر سے گیس کی قیمتوں میں پچیس سے پچاس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے اور اس موسم سرما میں گیس کی قلت آٹھ سو پچاس ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کرجائے گی جس سے کروڑوں چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ مہنگائی ‘ غربت ‘ بے روزگاری اوربھوک کی انتہا ہورہی ہے ۔ اب پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بھی رجعتی عرب ممالک کو نج کاری کے ذریعے کوڑیوں کے بھاؤ دی جارہی ہے۔ اس سے نہ صرف غذائی قلت میں اضافہ ہوگا بلکہ پانی کا سنگین بحران جنم لے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ اور اس کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے یہ حکمران کتنی بستیاں اجاڑیں گے۔ کتنے انسانوں کو زندہ درگور کریں گے‘ کتنی تباہی اور بربادی لائیں گے اس کا شاید ان کو خود بھی اندازہ نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ محنت کشوں کی توجہ ان کے مسائل سے زائل کروا کے ان کو حکمرانوں کی لڑائیوں میں الجھا کر حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کے حصہ دار بنا نے کے درپے ہیں ۔ کبھی بنیادی تضاد’’جمہوریت،، اور آمریت کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے‘کبھی سویلین اور فوجی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی رنگ‘ کبھی مذہب‘کبھی نسل‘ کبھی قوم‘ کبھی فرقوں کے تضادات کے طور پر سماجی نفسیات کو مسخ کرکے طبقاتی کشمکش کو مجروح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں حکمرانوں کا ایک باطل گروہ(Nexus)ہے اس میں سیاست دان فوجی جرنیل ‘ امیر ملاں اعلیٰ عہدوں پر فائزبیوروکریٹ‘ جج‘میڈیا کے مالکان اور دوسرے سرمایہ داروجاگیردار شامل ہیں۔ یہ آپس میں لوٹ مار کے مسئلہ پر عموماً لڑتے بھی ہیں اور عوام کی ابھرنے والی تحریک کی صورت میں فوراً یکجا بھی ہوجاتے ہیں ۔ کبھی ’’جمہوریت،، کے ذریعے اور کبھی آمریت کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ استحصال کو تیزسے تیز ترکرتے جارہے ہیں۔ عوام کی تحریکوں کو قیادتوں کی غداریوں نے بار بار زائل اور پسپا کروایا ہے ۔ لیکن یہ طبقاتی استحصال کی شدت ایک نئی طبقاتی جدوجہد کو پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر ابھارے گی۔ اس نظام میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس نظام کے سویلین اور فوجی ٹھیکیدار آزمائے جاچکے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں وہ مسترد ہوچکے ہیں ۔ محنت کش ایک متبادل کی تلاش میں ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب کی روایت یہاں کے محنت کشوں میں انیس سو آٹھاسٹھ،انہتر کی تحریک کی صورت میں موجود ہے ۔ اس مرتبہ یہ انقلابی طوفان کہیں زیادہ شدت سے ابھرے گا جو اس نظام کو گرادے گا۔ ایک مارکسی قیادت کی بنیادیں اور ڈھانچے تعمیرکی تکمیل تک پہنچ رہے ہیں ۔ یہ محنت کش طبقات تک اور محنت کش اس انقلابی موضوعی عنصر تک ضرور پہنچیں گے۔ یہ ملن جس سوشلسٹ انقلاب کو جنم دے گا وہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں بربریت‘ ظلم ‘ استحصال ‘غربت او ر دہشت گردی کا خاتمہ کرکے نسل انسان کی لاامتناعی فلاح کا عمل شروع کرے گا۔
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved