رپورٹ۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین ملتان،06.07.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان انٹرنیشنل ایر لائنز سے دوسو چھوٹے ملازمین کو برطرف کردیاگیا ہے ۔ان ملازمین کا شمار افسروں میں نہیں بلکہ معمولی مزدوروں میں ہوتاہے ۔ان میں آفس اٹینڈنٹ، آپریٹر، ہیلپر، چپڑاسی، کلرک اور ڈرائیور شامل ہیں ان ملازمین کو یکم جولائی2010ء سے برطرف کردیاگیاہے ۔اور یہ جواز پیش کر کے کہ ان کی ڈگریاں یا تو ہیں نہیں یاپھر جعلی ہیں۔ یکم مئی2003ء میں چھ سوملازمین کوپی آئی اے میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیاگیاتھا۔اور بعد ازاں جولائی2008ء میں انہیں مستقل کردیاگیا۔انتظامیہ کے بقول ان میں سے چارسو نے اپنی اسناد جمع کرادی تھیں جبکہ دو سوملازمین نے اپنی اسناد جمع نہیں کرائی تھیں ۔ملازمین کا موقف ہے کہ ان سے جب درخواستیں مانگی گئیں تھیں تب انہیں انڈر میٹرک کا کہا گیاتھا لیکن بعد میں ان سے کہا گیا کہ وہ دوسال میں میٹرک پاس کر کے اپنی سندیں جمع کرائیں ۔ ایک ایسی معاشی کیفیت میں جبکہ غربت اور بے روزگاری دن بدن ایک خونی عفریت کی طرح انسانوں کی اکثریت کو نگلتی جارہی ہے اور سماجی میں بے چینی اور غم وغصہ بڑھتاہی چلا جارہاہے ایسے میں پہلے سے ملازمتیں کرنے والوں کو اور وہ بھی نچلے درجے کے ملازمین کو روزگار سے محروم کرنا معاشی قتل عام سے کم نہیں ہے۔پی آئی اے کے ان چھوٹے ملازمین کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے پورے ادارے اور پاکستان کی مزدور تحریک میں اضطراب کی کیفیت پیداکردی ہے۔پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپین پی آئی اے انتظامیہ کے اس وحشیانہ اقدام اور مزدوروں کی برطرفی کی شدید مذمت کرتی ہے اور ان مزدوروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ان کے سبھی مطالبات فوری طورپر تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
1؛سبھی کنٹریکٹ ملازمین کو فوری طورپر مستقل کیا جائے ۔2؛کم قابلیت کے ملازمین کو متبادل جگہ روزگار فراہم کیا جائے ۔3؛برطرف ہونے والے سبھی ملازمین کو فوری طورپر بحال کیا جائے ۔