مالاکنڈ میں بجلی کے خلاف مظاہرہ ۔ ملتان میں تیسرامارکسی سکول
رپورٹ: گوہر علی،05.07.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔
بٹ خیلہ میں سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کال پر بجلی کے کم وولٹیج طوطہ کان فیڈر اور بٹ خیلہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کچھ دیر کے لیے مین شاہراہ کو احتجاجاً ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔مظاہرین سے اے این پی تحصیل کے صدر محمد اعجاز خان، انجمن تاجران کے صدر میاں عزیز الحق، سابق ناظم پیر عظمت شاہ، کامریڈ شکیل خان، ڈسٹرکٹ بار ملاکنڈ کے صدر کامریڈ غفران احد ایڈووکیٹ اور دوسرے مقررین نے خطاب کیا۔ کامریڈ غفران نے کہا کہ اب مہنگائی ،بیروزگاری ، لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کی وجہ سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔موجودہ حکومت اور عوامی نمائندے مسائل کے حل میں ناکام ہو چکے ہیں اور ملک کے مسائل کا حل اب صرف سوشلسٹ انقلاب ہے۔انہوں نے کہا کہ 30جون تک مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں پشاور میں احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا
ملتان میں جاری مارکسی سکول کے سلسلے ،جس میں مارکسزم کے تین بنیادی اجزائے ترکیبی میں سے ایک تاریخی مادیت کو سمجھنے اور اس پر بحث کرنے کے حوالے سے دوسرا سکول 4جون 2010ء کو منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں ابتدائی کمیونسٹ سماج کے مختلف عوامل اور مراحل پر بحث کی گئی۔جبکہ اس سلسلے کا تیسرا سکول 25جون کو تاریخی مادیت کے اگلے مرحلے ابتدائی زرعی سماج ،غلام داری کا آغاز،اور غلام دارانہ سماج پر گفتگو کی گئی ۔مارکسی سکول کے انچارج کامریڈ ارسلان نے پچھلے سکولوں میں ہونے والی بحث کو بیان کر کے سکول کا آغازکیا ۔جبکہ کامریڈ ذیشان نے اس موضوع پر اپنی بات رکھی اور سم اپ کیا۔ سکول میں شریک سبھی مندوبین نے بحث میں بھرپور حصہ لیا ۔سکو ل میں حیدر عباس گردیزی، طارق چوہدری، جام سجاد، انجم سعید، ذیشان ، ارسلان، فہد، طلحہ، رانا عدیل، ندیم پاشا، اقصیٰ، حلیمہ،ماہ بلوص، شاہد،ایاز، ذیشان بٹ اور انعم نے شرکت کی ۔ اگلے مارکسی سکول میں جاگیرداری نظام کی ابتدا اور اس کے خدوخال پر بحث کی جائے گی