رپورٹ ۔ جام سلیم الرحمٰن،21.06.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیبر ایکشن کمیٹی رحیم یار خان کا اجلاس زیر صدارت کنونئیر محمد نعیم مہاندرہ ہوا جس کے مہمان خصوصی PTUDCکے مرکزی وائس چئیر مین رانا قمر الزماں تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راناقمر الزماں نے کہا کہ پاکستان بد قسمتی سے دنیا میں سب سے زیادہ عوام سے ٹیکس لینے والا ملک ہے اور موجودہ حکومت دو سال میں عوام کے لیے کوئی ریلیف فراہم نہیں کر سکی۔ سابقہ حکومتوں کی طرز پر محنت کشوں کا استحصال جاری ہے، موجودہ بجٹ میں سب کچھ ہے مگر محنت کشوں کے لیے ریلیف نہیں ۔ یہ سال پاکستان کا خوفناک مالی سال ہو گا کیونکہ اس سال حکومت کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت بار بار ٹیکس اور روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور محنت کشوں کے مسائل کا حل ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہو گا۔ کنونئیر محمد نعیم مہاندرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ میں محنت کشوں کے لیے ریلیف فراہم کرے۔ رحیم یار خان میں لیبر ہال تعمیر کیا جائے اور لیبر کالونی کے الاٹیوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔ اجلاس میں رحیم یار خان کی تمام ٹریڈ یونینز سے رابطوں کو بڑھانے کے لیے ایک کوارڈینیشن کمیٹی بنائی گئی جس میں تین رکن پی ٹی یو ڈی سی کے حیدر چغتائی، رانا احسان الحق اور عبدالرحیم شامل ہیں۔ اجلاس میں ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں گزشتہ روز اسلام آباد میں ایپکا، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور اساتذہ پر وحشیانہ تشدد کی بھرپور مذمت کی گئی اور یونی لیور انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام ڈسمس ورکرز کو مراعات کے ساتھ فی الفور بحال کیا جائے بصورت دیگر لیبر ایکشن کمیٹی بھرپور احتجاج کرے گی۔ اجلاس میں مختلف ٹریڈ یونینز کے نمائندوں عبدالرؤف، ذوالفقار علی، رئیس کجل، رب نواز سومرو، سمیع اللہ، جمشید علی، ملک محمد ندیم، رانا احسان الحق، ظفر اقبال، بلال احمد، فضل محمود، سید عابد حسین شاہ، جام عبدالجبار، عبدالواحد نوناری، شیراز نواز، صبور خان، نعمت علی، محمد سجاد شاہ، ناصر علی خان، محمد احمد، محمود الحسن، محمد اعظم حسین، سردار احمد پہوڑ، ریاض عقیل، عبدالقیوم لغاری، امجد عزیز، شہباز قیوم، محمد یعقوب، لائق خان اور جام سلیم الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔، اجلاس سے پی ٹی یو ڈی سی کے راہنما حیدر چغتائی، محمود الحسن اور رانا احسان الحق نے بھی خطاب کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پبلک ہیلتھ انجینرنگ میگا پروجیکٹ سیوریج اسکیم رحیم یار خان کے ورک چارج ورکرز کی حمایت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رپورٹ ۔ جام سلیم الرحمان ،۔ ۔ ۔ لیبر ایکشن کمیٹی ڈسٹرکٹ رحیم یار خان کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں پبلک ہیلتھ انجینرنگ میگا پروجیکٹ سیوریج اسکیم رحیم یار خان کے ورک چارج ورکرز کے مطالبات کی حمایت کی گئی۔ اجلاس میں پر زور مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت لیبر پالیسی کے تحت ان ورکرز کو فوری طور پر مستقل کرے اور یہ کہ مذکورہ ورکرز کو کم از کم تنخواہ 7ہزار روپے ماہوار دی جائے اور ان کو دیگر سوشل سکیورٹی مراعات فراہم کی جائیں۔اجلاس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ حکومتی لیبر پالیسیوں کی خود حکومتی ادارے بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اس کی بھرپور مذمت کی گئی۔اجلاس میں متعلقہ حکام بالخصوص ایکسئین سید عباس رضا کو انتباہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ انجینرنگ کے ورک چارج ورکرز کو مستقل کریں اور کم از کم تنخواہ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے 7ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ادا کرے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو تمام مزدور تنظیمیں احتجا ج کریں گی۔اجلاس میں مزدور تنظیموں کے نمائندوں میاں امانت علی، ملک محمد ندیم، سید عابد حسین شاہ، عبدالواحد نوناری، عبدالرؤف، سجاد شاہ، رئیس کجل، فضل محمود خان، عمیر بھٹی، جام سلیم الرحمٰن، محمد یعقوب، صبور خان ، شیراز نواز و دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔