رپورٹ۔ کامریڈ حارث،21.06.2010۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ راولاکوٹ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن چوبیس جون کو صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں ’’انقلابِ کشمیر‘‘ کانفرنس کا انعقاد کرے گی جس میں نام نہاد آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں سے ترقی پسند رہنما بھی شرکت کریں گے۔ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر سردار امجد شاہسوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت برصغیر کا خطہ شدید معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس کے باعث حکمران طبقہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے ۔ ہندوستان میں اس وقت لگ بھگ انیس علیحدگی کی تحریکیں موجود ہیں جبکہ پاکستان باربار اپنے ہی عوام پر فوج کشی کرنے پر مجبور ہے ۔ دونوں ممالک کے حکمران طبقات مسئلہ کشمیر کو بنیاد پر کر نہ صرف اپنے اندرونی تضادات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر ہی حکمرانوں کی تجوری ہے جس پر وہ عیاشیاں کر رہے ہیں۔تعلیم کا شعبہ حکمرانوں کے لئے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے جہاں سے فیسوں کی مد میں کروڑوں کمائے جاتے ہیں۔ صحت کی سہولیات سے مستفید ہونا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔ سماج میں موجود طبقاتی تفریق اپنے عروج پر ہے۔ ایسے میں جے کے این ایس ہی وہ قوت ہے جس نے ہر دور میں نوجوانوں اور عوام کی درست رہنمائی کی۔کانفرنس کا مقصد عوام میں یہ شعور بیدار کرنا ہے کہ آج دنیا میں نوآبادیاتی نظام کو امریکہ کی آشیر باد سے قائم رکھ کر پسماندہ ممالک کو اپنی منڈیاں سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے جس میں ہمارے حکمران عالمی سامراج کو لوٹنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے نام پر قومی صنعتوں کو بیچ کر ان سے کمیشن حاصل کر کے اپنے بینک بیلنس بنائے جا رہے ہیں ۔ برصغیر میں مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرنا عالمی سامراج اور ہمارے حکمرانوں کے مفاد میں ہے کیونکہ یہی وہ واحد بنیاد ہے جس پر وہ اپنی حکمرانی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں این ایس ایف کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کو اس وقت تک حقیقی آزادی نہیں مل سکتی جب تک وہ ملک عالمی مالیاتی اداروں اور سامراج کی گرفت سے آزاد نہ ہو ۔ہم نے ہر دور میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک آزاد معاشرے کے قیام کے اولین مطالبہ کو طور پر عوام کے سامنے رکھا اور اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی سامراج کا مسلط کردہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہی تمام برائیوں اور محرومیوں کی جڑ ہے اور اس نظام کو بدلنے کے لئے خطے میں سوشلسٹ انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور طلباء یونین کو بحال کرتے ہوئے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے، ہندوستان اور پاکستان، کشمیر سے اپنی اپنی افواج کا انخلاء کریں اوردفاع کے نام پر محنت کش عوام کی لوٹ مار بند کرتے ہوئے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیں۔ وزارت امورکشمیر اور کشمیر کونسل جیسے اداروں کو ختم کرتے ہوئے بااختیار عوامی نمائندہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تمام لینٹ آفیسروں کو کشمیر سے نکالا جائے۔ تمام بیروزگاروں کو رجسٹرڈ کرتے ہوئے انہیں روزگار یا بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔ملازمین کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔
. . . . . . . . . . . . Photoانقلابِ کشمیر کانفرنسhttp://picasaweb.google.com/chingaree/jnUOnB#