ریلوے کے محنت کشوں پر انتظامیہ کے جبر کے خلاف ہڑتال اورجلسہ
رپورٹ: فضل قادر ، جنرل سیکرٹری ریلوے لیبر یونین پشاور ڈویژن،17.06.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ریلوے لیبر یونین کندیاں شہر کے عہدیداروں صفدر شاہد، اکرام کندی، شمس عباس حیدری، عالم شیر، اللہ دتہ، صالح محمد وٹو، محمد بخش وغیرہ نے عارضی ملازمین ( ٹی ایل اے پوائنٹس مین) کو مستقل کرنے اور وزیر ریلوے غلام احمد بلور کی سیاسی بھرتیوں کے خلاف آٹھ مئی کو ایک زبردست احتجاج منعقد کیا۔ احتجاجی جلوس اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ رہنماؤں نے کہا کہ ریلوے پہلے سے دم توڑ رہی ہے اوربد عنوان افسر شاہی نے ریلوے کے جسم و جاں سے آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا ہے۔ لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ تجربہ کار ٹی ایل اے کانٹے والے محنت کشوں کو بر طرف کر کے نا تجربہ کار سیاسی خوشامدیوں ، چاپلوسوں اور رشوت کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے ملازمین ریلوے کا مزید بیڑہ غرق کر دیں گے۔
ریلوے کو منافع بخش اور جدید بنانے کا وزیر ریلوے کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ، نہ ہی بد عنوان افسر شاہی کی لوٹ کھسوٹ روکنے کا کوئی پروگرام ہے۔ ریلوے نام نہاد سیاستدانوں اور افسر شاہی کا ادارہ نہیں ہے بلکہ ریلوے کو رواں دواں رکھنے والے صرف محنت کش ہیں جو سالانہ کروڑوں لوگوں کو سفر کی سہولت دیتے ہیں۔ آج ریلوے کے محنت کش کسی ادارے کے ملازم کے کم اور ماضی قدیم کے غلام زیادہ نظر آتے ہیں ۔ ریلوے کے مزدورڈبل مزدور اور نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ پہلے سے بیروزگاری سنگین حد تک پہنچ گئی ہے اوراس پر مستزاد یہ کہ ٹی ایل اے ملازمین کو روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ہم غلام احمد بلور وزیر ریلوے کی سیاسی بھرتی اور رشوت لے کے بھرتی کو مسترد کرتے ہیں۔
اس انکار اور احتجاج کی پاداش میں ریلوے کی پشاور ڈویژن انتظامیہ نے لیبر یونین کندیاں شیڈ کے مزدور رہنماؤں صالح محمد وٹو، اکرام کندی اور صفدر شاہ کو کندیاں شیڈ سے پشاور لوکو شیڈ تبدیل کرنے کے انتظامی احکامات جاری کر دیے ، مگر ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ چند آوازوں کو دبانے کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کے خلاف آٹھ مئی کو لوکو شیڈ کندیاں کے مزدوروں نے کام چھوڑ ہڑتال کر دی جو دن کے گیارہ بجے تک جاری رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ لوکو شیڈ روہڑی لوکو شیڈ کراچی ، لوکو شیڈ کوئٹہ، لوکو شیڈ راولپنڈی میں بیک وقت احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ جن میں کندیاں شیڈ کے مزدور رہنماؤں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور پشاور ڈی ایس ریلوے کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
ریلوے لیبر یونین کندیاں شیڈ کے آٹھ مئی کے جلسے میں کامریڈ فضل قادر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام آفیسر چھٹی پر چلے جائیں یا کسی وباء کا شکار ہو جائیں پھر بھی ریلوے کا پہیہ چلتا رہے گا لیکن آج لوکو شیڈ کندیاں کے مزدورو تم نے اپنے دو ہاتھ اٹھا کر کام بند کر دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت بم اور توپ میں نہیں ہے، بندوق اور گولی میں نہیں ہے۔طاقت افسروں کے عہدے اور کرسی میں نہیں ہے، طاقت مزدوروں کے اتحاد میں ہے ، طاقت آپ کی تحریک میں ہے۔
یہی طاقت جمع رکھو، یہی اتحاد یہی راستہ انقلاب کی طرف جاتا ہے، ہم ریلوے کو زوال سے نکالیں گے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین صوبہ پختونخواہ بھی آپ کے ساتھ ہے جو سوشلسٹ انقلاب کا پرچم اٹھا کر سچی جدوجہد کر رہی ہے، ہم جیتیں گے اس لیے کہ ہمارے پاس کھونے کو زنجیریں ہیں اور جیتنے کو سارا جہاں ۔