«
جمہوریت اور آمریت - لال خان
سامراجی قوتیں، جنہوں نے آمرانہ حکومتوں کے ذریعے نام نہاد تیسری دنیا میں کنٹرول کر رکھا تھا، اب جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر لوٹ مار
«
تاریخ کا انتقام
ہم تو کب سے جانتے ہیں کہ اس جرمن انقلابی کا سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں تجزیہ اتنا ہی ٹھوس ہے جتنا یہ نظام غیر مستحکم ہے
«
نیٹو ، پاک فوج اور جمہوریت
ریاست کی تباہی جو امریکہ اور مقامی حکمران نہیں چاہتے کیونکہ انکی تمام لوٹ مار اور عیاشیاں پاکستانی ریاست کی سلامتی سے وابستہ ہیں
«
لینن کا امریکی مزدوروں کے نام خط
یہ جنگ امریکی عوام نے برطانوی قزاقوں کے خلاف کی جو امریکہ پر ظلم کرتے تھے اور اس کو نوآبادیاتی غلامی میں گرفتار کر رکھاتھا
«
عورت ۔ سرخ سویرا ہی تجھے آزاد کرے گا
انسانی سماج جب جنگلوں میں تھا تو اسے تہذیب یافتہ سماج تک پہنچانے میں پھر سب سے اہم کردار اس سماج کی خواتین کا تھا
«
مصر۔ انقلاب کے نئے مرحلے کا آغاز
ردِانقلاب کے چابک کے نتیجے میں لاکھوں انقلابی اس چوک میں صف آرا ہو رہے ہیں جہاں انقلاب کے پہلے مراحل رونما ہوئے تھے۔